سورج اور ہوا سے توانائی پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے رہنما ہوا اور شمسی توانائی جیسے بار بار استعمال کیے جا سکنے والے وسائل کے استعمال کی کم سے کم حد مقرر کرنے کا ایک معاہدہ کرنے پرمتفق ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یورپی کمیشن کے صدر جوسے مینوئل باروس نے کہا کہ اب یورپ اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ آب و ہوا میں تبدیلی کے معاملے میں رہنما کردار ادا کر سکے۔ مذکورہ معاہدے کے تحت یورپی یونین کے ستائیس ممالک میں سے ہر ایک فیصلہ کرے گا کہ وہ سنہ دو ہزار بیس تک بحیثیت مجموعی یورپ میں ہوا اور شمسی توانائی جیسے وسائل کے استعمال کو بیس فیصد تک کیسے لے جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں متوقع اقدامات میں دو ہزار دس تک روشنی کے لیے فلامنٹ بلب پر پابندی لگا کر اس کی جگہ فلوروسنٹ بلب کا استعمال لازمی قرار دیا سکتا ہے۔ فلوروسنٹ بلب اگرچہ مہنگے ہوتے ہیں لیکن یہ زیادہ عرصہ چلتے ہیں۔ رہنماؤں نے جن دیگر اقدامات پر گزشتہ ہفتے اتفاق کیا ان میں دو ہزار بیس تک انیس سو نوے کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بیس فیصد کمی کرنا بھی شامل ہے۔ بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار نِک چائیلڈ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر یورپی یونین کے صدر مقام برسلز میں فتح کا احساس واضح تھا لیکن نامہ نگار کے خیال میں ابھی اس مسئلے پر بات چیت ہونا ہے کہ معاہدے میں طے کیے گئے اہداف کو حاصل کرنے میں ہر ملک کا کیا حصہ ہوگا، دوسرے الفاظ میں ابھی کئی مشکل فیصلے باقی ہیں۔
جوسے مینوئل براسو کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے اور شاید ان کی زندگی کا سب سے اہم معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا ’ ہم باقی دنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ یورپ نے پہلا قدم اٹھا لیا اور اب آپ بھی آب وہوا میں منفی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ دیں۔‘ اس سلسلہ میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا: ’مقرر کیے جانے والے اہداف ایک زبردست آغاز ہیں اور ان سے یورپ واضح طور پر دنیا کو درپیش اس مشکل چیلنج میں ایک قائد کے طور پر سامنے آیا ہے۔‘ جون میں صنعتی ممالک یعنی جی ایٹ کے اجلاس کے حوالے سے ٹونی بلیئر نے کہا کہ اجلاس کے موقع پر یہ معاہدہ امریکہ، چین اور بھارت کوموقع فراہم کرے گا کہ وہ بھی آب وہوا میں تبدیلی کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئیں۔ برسلز میں دو روزہ اجلاس کی صدارت کرنے والی جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے بھی اہداف مقرر کیے جانے کے فیصلے کو خوش آمدید کہا۔ | اسی بارے میں ’آب و ہوا کا خطرہ جنگوں جتنا بڑا ہے‘01 March, 2007 | آس پاس ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس عالمی حدت: ’صدر بش کچھ کریں‘23 January, 2007 | آس پاس 2007 میں حدت اور بڑھےگی 04 January, 2007 | نیٹ سائنس زلزلہ متاثرین کے لیئے یورپی امداد21 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||