’آب و ہوا کا خطرہ جنگوں جتنا بڑا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے دنیا کو درپیش خطرہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا کہ جنگ کی وجہ سے۔ انہوں نے امریکہ سے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پیدا کرتا ہے، کہا کہ وہ اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دے۔ اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریولین کے مطابق ماحولیاتی ماہر سیکریٹری جنرل سے کہتے رہے ہیں کہ وہ آب و ہوا میں تبدیلی کے مسئلے کو اجاگر کریں۔ کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں دنیا کو رہنمائی چاہیئے اور نئے سیکریٹری جنرل اس بارے میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بان کی مون نے اقوامِ متحدہ میں بچوں کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا کے مسئلے کا اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا کہ جنگ کا۔
انوں نے کہا کہ افریقہ اور چھوٹے جزایر والی ریاستیں اس بات کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہی ہیں، حالانکہ ان کا قصور سب سے کم ہے۔ بان کی مون نے متنبہ کیا کہ مستقبل میں ماحول میں تبدیلی کی وجہ سے پڑنے والے قحط اور ساحلوں علاقوں میں سیلابوں کی وجہ سے کشیدگی اور جنگیں ہوں گی۔ اقوامِ متحدہ دسمبر میں آب و ہوا کے مسئلے پر ایک کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔ کیوٹو معاہدہ 2012 میں ختم ہو جائے گا۔ اس لیے اس سے قبل ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے نئے اقدام پر متفق ہونا ضروری ہے۔ |
اسی بارے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کم کرنے پر انعام 09 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی مسائل، انسان پر الزام02 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلیاں: سنجیدگی کا وقت02 February, 2007 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، ڈیواس کا ایجنڈا24 January, 2007 | نیٹ سائنس قطبِ شمالی کی برف پگھلنے لگی30 December, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||