یورپی آئین کو بچانے کی جدوجہد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی رہنما فرانس اور ہالینڈ کی جانب سے یورپی یونین کے آئین کو مسترد کیے جانے کے بعد اس بچانے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر جین کلاؤڈ جنکر کا کہنا ہے ’ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے‘۔ یورپی کمیشن کے سربراہ مینیول بوروسو منگل کو یورپی پارلیمان کے رہنماوں سے ملاقات کریں گے۔ فرانس کی جانب سے یورپی یونین کے آئین کے خلاف ووٹ دینے کے تین دن بعد ہالینڈ نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ لاتویہ کی پارلیمنٹ نے اس آئین کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد اس کی حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ اس مسودے کو قانون کی شکل دینے کے لئے ضروری ہے کہ تمام 25 رکن ملک اس کی منظوری دیں۔ مسٹر بوروسو کاکہنا ہے ہمیں سنگین مسائل کا سامنا ہے لیکن ہمارا کام جاری رہنا چاہیے۔ مسٹر جنکر کا کہنا ہے یورپی یونین کے دوسرے ممالک کو بھی ریفرنڈم کرا لینا چاہئے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کاکہنا ہے کہ اس آئین کو دو مرتبہ مسترد کیے جانے سے مستقبل میں یورپ کی سمت کے بارے میں سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ برطانیہ کو اگلے ماہ سے یورپی یونین کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنی ہے۔ ہالینڈ کی یورپی کمشنر نیلی کروس نے بی بی سی کو بتایا کہ ہالینڈ کے ریفرنڈم میں آئین کے خلاف ووٹنگ فرانس کے نتائج سے مختلف ہے کیونکہ ہالینڈ کے لوگ اقتصادی اصلاحات اور داخلی منڈی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کئی مرتبہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یورپی یونین کئی عالمی مسائل میں مداخلت کر رہی ہے۔ نیدر لینڈ کے وزیر اعظم نےاس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے لیکن انکا کہنا ہے اگرچہ اس سارے عمل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ فقط عوام سے مشورے کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان نتائج کا احترام کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||