’اب تاریخ سے بلند ہونے کا وقت ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے بالٹک ریاستوں کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ انکی تاریخ سمجھتے ہیں لیکن اب اس تاریخ سے بلند ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ صدر بش نے لیتھونیا، لیتیویا اور استونیا کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد انہیں مقبوضہ بنائے جانے کی سوویت پالیسی پر پیدا ہونے والے تنازعے کا علم ہے لیکن اب اس تاریخی تنازعے سے بلند ہونا چاہیے۔ یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے ساٹھ سال کی تکمیل پر بالٹک ممالک کے رہنماؤں نے لیتیویا میں صدر بش سے ملاقات کی ہے۔ روس نے جنگِ عظیم کے اختتام پر ہونے والی اہم تقریبات میں شرکت کے لیے پہلے روس آنے سے پہلے صدر بش کے بالٹک ریاستوں کا دورہ کرنے پر احتجاج کیا ہے۔ بالٹک ممالک روس سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ آزادی سے محروم رکھے جانے پر ان سے ایک نئی معافی مانگیں۔ صدر بش نے اس مطالبے کی حمایت کی ہے کیونکہ یہ مطالبہ کرنے والے ملک ناٹو اتحادی بھی ہیں اور اب یورپی یونین کے رکن بھی۔ روس نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تیس ہزار جانوں کی قربانی سے نازی افواج کو شکست دینے والی وہ اہم طاقت تھا جس نے یورپ کو آزادی دلائی۔ صدر بش نے بعد میں بالٹک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مغرب کے اس سرے پر سوویت کوششوں سے امن آیا لیکن اسی کے بعد بالٹکممالک پر کمیونسٹ استبداد بھی مسلط ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||