یورپی سربراہی اور آئین پر تعطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برسلز میں جاری مذاکرات کا دوسرا دن ہے اور یورپی یونین کے رہنما یونین کے نئے آئین کی منظوری اور یورپی کمیشن کا نیا سربراہ منتخب کو کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آئیرش وزیراعظم بریتی اہرن کا کہنا ہے کہ یونین کے پہلے آئین پر کچھ اختلافات موجود ہیں تاہم انہیں طے کر لیا جائے گا اور اس کے بعد یونین کے نئے آئین کی منظوری کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اختلافات کا دور ہونا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ اصل اختلاف اکثریتی ووٹ کے فارمولے پر ہی ہے۔ مسٹر اہرن نے یہ بھی بتایا ہے کہ ابھی کسی کو بھی کمیشن کے سربراہ کے عہدے کے لیے خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہے۔ جمعہ کو اس بات کے آثار نمایاں تھے کہ یونین کے موجودہ صدر رومانو پروڈی کا متبادل تلاش کرنے کے معاملے پر کشاکش کی صورتِ حال پیدا ہو گی۔ اس معاملے میں ایک طرف برطانیہ ہے اور دوسری طرف فرانس اور جرمنی کا اتحاد۔ دوسرے لوگوں کے علاوہ یورپی پارلیمنٹ کے کنزرویٹو گروپ نے ایک برطانوی کمشنر کرس پیٹن کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ کرس پیٹن کو یورپین پیپلز پارٹی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ فرانس نے کرس پیٹن کی مخالفت کی ہے اور صدر شیراک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک ایسے ملک سے امیدوار کا نامزد کیا جانا ہی درست نہیں ہے جس نے تمام یورپی پالیسیوں ہی میں حصہ نہ لیا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||