عوامی پس منظر: یورپی یونین کی توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے پندرہ پرانے ممبران نے یکم مئی کو دس نئے ممبران کو خوش آمدید کہا۔ ان دس ممبران میں چیک ریپبلک، اسٹونیا، ہنگری، لیٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، سلواکیا اور سلوینیا شامل ہیں۔ اس اضافہ کے ساتھ ہی یورپی یونین پچیس ملکوں کی چار سو پچپن ملین آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑے تجارتی بلاک بن گیا ہے۔ یورپی یونین میں نئے ممالک کی شمولیت کو صدی کا ایک بڑا واقعہ قرار دیا جارہا ہے اور اسے ماضی کی ’بڑی سلطنتوں‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کی توسیع پر عوامی پس منظر: مائیکل جوڈا، عمر اٹھارہ سال، پولینڈ
میں پولینڈ کی یورپی یونین میں شمولیت پر خوش ہوں لیکن اس کے ساتھ میں اس بات پر فکرمند بھی ہوں کہ پولینڈ کی یہ شمولیت موجودہ ممبران کے ساتھ مساوات کی بنیاد پر نہیں ہے۔ مثال کے طور پر پولش کسانوں کو یورپی یونین کے دوسرے ممالک کے کسانوں کے مقابلے میں کم امداد ملے گی اور یہ بات ہماری ترقی کے لئے حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ یورپی یونین میں شامل ہونے والے ممالک میں سب سے بڑے ملک کے طور پر ہم بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولینڈ چیک ریپبلک اور سلوینیا جیسے دوسرے نئے ممبران کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے۔ یورپی یونین کی رکنیت کا لازمی نتیجہ ترقی ہونا چاہیے۔ اس وقت پولینڈ میں بیروزگاری بہت زیادہ ہے۔ ملک میں اس وقت بہت سے ہنر مند موجود ہیں جو کام کر سکتے ہیں۔ لیکن یورپی یونین میں پولش کارکنوں کو صرف برطانیہ اور آئرلینڈ میں کام کرنے کی اجازت ہو گی جو انصاف کے منافی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں چار سال بعد اپنی یورنیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یورپی یونین میں کہیں بھی روزگار حاصل کر سکوں گا۔ پاؤلو کاسترو گیریڈو، عمر اٹھائیس سال، پرتگال
میں یورپی یونین کی توسیع کو ایک مثبت قدم سمجھتا ہوں۔ اگرچہ بہت سے یورپی لوگوں کو اس توسیع میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا لیکن میرے خیال میں سارے یورپی خاندان کو یورپی یونین جیسے جمہوری ادارے کی صورت میں اکٹھا کرنا ایک اچھا امر ہے۔ پرتگال کو یورپی یونین سے ملنے والی امداد میں کافی کمی متوقع ہے۔ پرتگال کو یورپی یونین سے ملنے والی امداد میں سے کافی حصہ اب یورپی یونین کے نئے ممبران کو دیا جائے گا۔ تاہم پرتگال کو ہونے والے مالی نقصان سے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلے کم ہونے میں مدد ملتی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یورپین یونین کی مالی امداد سے پرتگال کو اپنی سڑکیں اور سکول تعمیر کرنے اور خواندگی کی شرح بڑھانے میں بہت مدد ملی ہے۔ سابقہ سوویت بلاک کے ممالک کے لوگ یورپی یونین میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ ہماری نسبت، جب ہم نے یورپی یونین میں شامل ہوئے، زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ یورپی یونین میں نئے ممالک کی شمولیت سے ہم مالی طور پر بہتر ہوں گے اور دنیا میں ایک مضبوط آواز بن کر ابھریں گے۔ کیو ایتوراؤتی، عمر چوبیس سال، فن لینڈ
میں اپنے نئے دوستوں کو یونین میں شمولیت پر خوش آمدید کہتا ہوں لیکن اس کے ساتھ میں بھی کہوں گا کہ اس سے انہیں کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ یورپی یونین کے اندرونی اختلافات، یونین کے مختلف ممالک کے درمیان غیرمساوی برتاؤ اور ارکان میں پائے جانے والی لالچ کی موجودگی میں نئے ارکان کے لئے امید کی کوئی زیادہ گنجائش نہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ میں مستقبل بعید میں غلط ثابت ہوں گا لیکن کم از کم فِن لینڈ کو یورپی یونین میں فیصلہ کرنے کے عمل سے بالکل الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ یورپی یونین میں بڑے ممالک سارے فیصلے خود کرتے ہیں اور چھوٹے ممالک کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یورپی یونین کا رکن بننے کا ایک مثبت نفسیاتی اثر بھی ہوتا ہے لیکن جتنا بڑا خاندان ہوتا ہے، ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ نئے ممالک اپنے آپ سےسوال کریں کہ انہوں نے یونین میں شمولیت آخر کیوں کی تھی؟ اینٹونیہ سکنگ، عمر اٹھہتر سال، مالٹا
یورپ کی توسیع میں مالٹا جیسے ملک کی شمولیت ایک بہت مثبت قدم ہے۔ میں ہالینڈ میں ایک یورپی شہری کے طور پر پیدا ہوئی تھی۔ میری زندگی نازی قبضے، کمیونزم کے خوف اور امن کی تلاش میں دور افتادہ ساحلوں کی طرف ہجرت سے عبارت ہے۔ پچھلے چالیس سالوں سے میں ایک غیر یورپی ملک میں رہ رہی ہوں۔ میں مالٹا کی یورپی یونین میں شمولیت پر بہت خوش ہوں۔ اب میں پہلی دفعہ یورپی یونین کے انتخابات میں ووٹ ڈال سکوں گی جو بڑا خوش آئند امکان ہے۔ مالٹا کی نوجوان نسل اب یورپی پارسپورٹ حاصل کر سکتی ہے اور وہ امریکہ یا آسٹریلیا جانے کے بجائے اپنے علم و ہنر کا استعمال پورے یورپ میں کر سکتی ہے۔ مالٹا کی سرکاری زبان انگریزی ہونے کے باعث اسے دوسرے نئے ممبران پر برتری حاصل ہے۔ پال جانز، عمر بیالیس سال، بلجیم
یورپی یونین کی توسیع ایک اچھا امر ہے لیکن میری دانست میں اسے دھیرے دھیرے ہونا چاہیے تھا۔ یورپی یونین میں اتنے زیادہ ممالک کی یکمشت شمولیت سے موجودہ ارکان پر بوجھ پڑے گا۔ نئے ارکان میں سے زیادہ تر بہت غریب ہیں اور ان کے لئے بہت بڑی امدادی رقوم کی ضرورت ہو گی۔ بلجیم میں رہائش پذیر ایک برطانوی باشندے کے طور پر میں یورپی یونین کے ممالک میں دوسرے رکن ممالک کے کارکنوں کے کام کرنے کی اہمیت سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔ مجھے مستقبل میں ایسا نظر آتا ہے کہ ہم ان ممالک سے تربیت یافتہ کارکنوں کی درخواست کریں گے اور ان تربیت یافتہ کارکنوں کو امیر ممالک لے اڑیں گے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ اس سارے عمل سے ان نئے ممبران کو کیا فائدہ ہوگا۔ مارٹن زمازل، عمرا کتیس سال، چیک ریپبلک
مجھے صرف یہ فائدہ نظر آتا ہے کہ یورپ میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔ میں نے ماضی میں بھی برطانیہ میں رضاکارانہ طور پر کام کیا ہے۔ اب مجھے توقع ہے کہ میں دوبارہ برطانیہ میں کام کر سکوں گا۔ ماضی میں مجھے ورک پرمٹ نہیں مل سکا تھا لیکن اب ایسا کو ئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ ابھی تک چیک حکومت نے اپنے عوام کو یورپی یونین کی توسیع کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ ابھی تک ہمیں یہ علم نہیں کہ اس شمولیت کے نتیجے میں ہمیں دوسرے رکن ممالک میں کام کرنے کے علاوہ کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ ڈیوڈ مولونی، عمر اکتالیس سال، آئر لینڈ
یورپی یونین میں شامل ہونے والے بہت سے ممالک آئر لینڈ کی مثال کو اپنے لئے سنگ میل سمجھ رہے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں آئرلینڈ کے مثبت تجربے کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔ آئرلینڈ کے ہزاروں لوگوں کی طرح مجھے بھی انیسں سو پچاسی میں ضرورت کے تحت آئرلینڈ سے نکلنا پڑا تھا۔ اس وقت گمبھیر معاشی صورتحال کے باعث آئرلینڈ میں کام نہ ہونے کے برابر تھا۔ مجھے آئرلینڈ کے یورپی یونین کے رکن ہونے کی وجہ سے جرمنی اور اٹلی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اب ہم اپنی اچھی معاشی صورتحال کی وجہ سے دوسری ممالک کے کارکنوں کے لئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہماری یورنیورسٹیوں میں بہت سے غیرملکی تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان تعلیم یافتہ ہنرمندوں کو یہاں رہنے اور آئرش معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں۔ وکٹر اوپارہ، عمر تیس سال، اسٹونیا
اسٹونیا کے لوگوں کے لئے یورپی یونین کی توسیع کا ایک ہی فائدہ ہے کہ وہ یورپی یونین میں آزادانہ سفر کر سکیں گے۔ لیکن برطانیہ اور آئر لینڈ کے علاوہ وہ کسی دوسرے ملک میں کم از کم تین سال تک کام نہیں کر سکیں گے۔ جب تک لوگوں کو کام کا حق نہ دیا جائے، اس وقت تک اس توسیع کا کیا فائدہ ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ نئے ارکان اپنی آزادی کھو بیٹھیں گے اور بدلے میں انہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اگر اسٹونیا یورپی یونین کا رکن ہے تو اسے دوسرے تمام ارکان والے فوائد حاصل ہونے چاہیں۔ مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اسٹونیا کے لوگوں کو بھی میری طرح کام کرنے کی اجازت نہ ملنے کے مسئلہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الوقت میں صرف ہوٹل میں یا ڈرائیور کی حیثیت سے کام کر سکتا ہوں اور اسٹوینا کے لوگوں کو یہی مسئلہ نئے یورپی یونین میں پیش آئے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||