یورپی یونین کی توسیع اور مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے 25 ممالک کے سربراہان نے یکم مئی کو یورپی یونین میں نئے ممالک کی شمولیت کے سلسلے میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کی۔ یہ تقریبات آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں منعقد کی گئیں۔ آئرلینڈ اس وقت یورپی یونین کا صدر ہے۔ ادھر یکم مئی کی مناسبت سے ڈبلن میں ہونے والے مظاہرے کے شرکاء کو تقریبات کے مقام فیونکس پارک کے قریب جانے سے روکنے کے لئے آئرلینڈ کی پولیس کو پانی کی توپ چلانی پڑی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین اور پولیس کے مابین چوہے بلی کا کھیل دن بھر جاری رہا۔ یورپی یونین کے پندرہ پرانے ممبران نے گزشتہ شب دس نئے ممبران کو خوش آمدید کہا۔ ان دس ممران میں چیک ریپبلک، اسٹونیا، ہنگری، لٹویا، لتھونیا، پولینڈ، سلواکیا اور سلوینیا شامل ہیں۔ اس اضافہ کے ساتھ ہی یورپی یونین پچیس ملکوں کی چار سو پچپن ملین آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑے تجارتی بلاک بن گیا ہے۔ نئے ممبران میں سے کئی ریاستیں دس سال پہلے تک بطور ایک ملک علیحدہ وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔ بلکہ اب ان حکومتوں نے برسلز کو یقین بھی دلایا تھا کے ان کی معاشی حالت، نظامِ قانون اور جمہوریتیں یورپی یونین کا حصہ بننے کےلائق ہیں۔ یورپی کمیشن کے صدر رومانو پرودی نے کہا کہ یہ ایک ’تاریخی اور خوشی منانے کا دن ہے‘۔ ڈبلن میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینکس کا کہنا ہے کہ کئی ایک تو یورپی یونین میں نئے ممالک کی شمولیت کو صدی کا ایک بڑا واقعہ قرار دے رہے ہیں اور اسے ماضی کی ’بڑی سلطنتوں‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||