یورپ یونین: نئے ارکان کا خیر مقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے 25 ممالک کے سربراہان آج یورپی یونین میں نئے ممالک کی شمولیت کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے پندرہ پرانے ممبران نے گزشتہ شب دس نئے ممبران کو خوش آمدید کہا۔ ان دس ممران میں چیک ریپبلک، اسٹونیا، ہنگری، لٹویا، لتھونیا، پولینڈ، سلواکیا اور سلوینیا شامل ہیں۔ اس اضافہ کے ساتھ ہی یورپی یونین پچیس ملکوں کی چار سو پچپن ملین آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑے تجارتی بلاک بن گیا ہے۔ اس وقت سب کی نظریں آئرلینڈ پر لگی ہوئی ہیں جو اس وقت یورپی یونین کا سربراہ ہے اور جہاں یورپی یونین میں نئے ممالک کےاعزاز میں خیر مقدمی تقریب کا انعقاد ہو رہا ہے۔ نئے ممبران میں سے کئی ریاستیں دس سال پہلے تک بطور ایک ملک علیحدہ وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔ بلکہ اب ان حکومتوں نے برسلز کو یقین بھی دلایا تھا کے ان کی معاشی حالت، نظامِ قانون اور جمہوریتیں یورپی یونین کا حصہ بننے کےلائق ہیں۔ آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم برٹی آہرن نے ڈبلن کاسٹل میں، جہاں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں، کہا کہ یہ ’امید اور آس کا دن ہے‘۔ یورپی کمیشن کے صدر رومانو پرودی نے کہا کہ یہ ایک ’تاریخی اور خوشی منانے کا دن ہے‘۔ ڈبلن میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینکس کا کہنا ہے کہ کئی ایک تو یورپی یونین میں نئے ممالک کی شمولیت کو صدی کا ایک بڑا واقعہ قرار دے رہے ہیں اور اسے ماضی کی ’بڑی سلطنتوں‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||