BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 02:48 GMT 07:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورپی اتحاد کا غیریقینی مستقبل

News image
فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ انہوں نے عوامی فیصلہ نوٹ کر لیا ہے
فرانس کے عوام کی اکثریت نے اتوار کے روز ریفرنڈم میں یورپی اتحاد کے نئے آئیں کو مسترد کر کے نہ صرف فرانس کو سیاسی آتشیں طوفان سے دوچار کر دیا ہے بلکہ یورپی اتحاد کے مستقبل کو غیر یقینی کے تاریک غار میں دھکیل دیا ہے۔

ریفرنڈم کا فیصلہ صدر ژاک شیراک کے لئے نہایت خفت آمیز ہے کیونکہ انہوں نے اس آئین کی توثیق پر اپنی سیاسی معتبری داؤ پر لگا دی تھی۔ یہ شکست بلا شبہ فرانس میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

یورپی اتحاد کے لئے فرانسسی ریفرنڈم کا فیصلہ تاریخی اور مہلک فیصلہ ہے کیونکہ فرانس جو یورپی اتحاد کا ایک بانی رکن ہے، اتحاد کے پچیس ممالک میں پہلا ملک ہے جس نے اتحاد کے اس نئے آئیں کو مسترد کیا ہے جو گذشتہ سال تمام ممبر ممالک کے سربراہوں نے منظور کیا تھا اور یہ طے کیا تھا کہ یہ نیا آئین اس وقت تک نافذ نہیں ہو گا جب تک تمام پچیس ممبر ممالک فردا فردا اس کی توثیق نہیں کر دیتے۔

اب تک صرف نو ممالک اس آئین کی توثیق کر چکے ہیں اور ابھی برطانیہ، نیدر لینڈز اور پولینڈ سمیت پندرہ ملکوں کو اس کی توثیق کرنی ہے۔

لیکن بیشتر مبصرین کی رائے ہے کہ فرانس کی طرف سے آئین کو مسترد کئے جانے کے بعد اب یہ آئین ٹھپ ہوگیا ہے کیونکہ اس کا نفاذ ممکن نہیں بشرطیکہ یورپی اتحاد کے سربراہ آئین میں ترمیمات کرکے کوئی نئی راہ نکالیں یا پھر اگلے سال فرانس کے عوام کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے کہا جائے اور ایک اور ریفرنڈم کرایا جائے۔

عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ فرانس کے عوام کی اکثریت نے اس ریفرنڈم کو آئین پر فیصلہ کے بجائے صدر شیراک کی پالیسیوں کے خلاف اپنے شدید جذبات کے اظہار کاوسیلہ بنایا ہے۔

آئین ٹھکرانے کی وجوہات

اس میں کوئی شک نہیں کہ فرانسسی عوام نےصدر شیراک کو خفت آمیز شکست دی ہے لیکن اسی کے ساتھ اس بات میں شبہ نہیں کہ فرانس کے عوام کی ایک بڑی تعداد کو یورپی اتحاد کے آئین کے سلسلہ میں متعدد تشویشات اور شکوک ہیں۔

فرانسسیوں کو خطرہ ہے کہ اتحاد کا یہ آئین یورپ کی معیشت کی سمت بدل دے گا اور اس پر برطانیہ اور جرمنی کا غلبہ بڑھ جائے گا۔

فرانسیسی، یورپی اتحاد میں حالیہ توسیع پر بھی خوش نہیں ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ اس توسیع سے یورپی اتحاد میں فرانس کی اہمیت کم ہو تی جا رہی ہے۔
ایک بڑی تشویش فرانسیسیوں کو ترکی کی رکنیت کے امکان پر بھی ہے۔

فرانس کے عوام کی اکثریت نہیں چاہتی کہ ایک مسلم ملک یورپ میں شامل ہو اور وہ بھی ترکی جس نے سلطنت عثمانیہ کے دور میں نصف سے زیادہ یورپ کو فتح کر لیا تھا اور اس دور کے زخم اب بھی یورپ کے دلوں میں رہے ہیں۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ یورپی اتحاد کا یہ آئین جو فرانسیسیوں نے مسترد کیا ہے اسے مرتب کرنے والوں میں پیش پیش فرانس کے سابق صدر ویلری گیسکارڈ دیستاں تھے۔

یورپی اتحاد کا اب تک کوئی باقاعدہ آئین نہیں تھا بلکہ اتحاد کا کام مختلف معاہدوں کے بل پر چل رہا تھا جن کی وقتا فوقتا ممبر ممالک کی پارلیمانوں کی طرف سے توثیق ہوتی رہی ہے۔

اتحاد کا آئین

نئے آئین میں اتحاد کو دفاع اور خارجہ امور میں وسیع اختیارات دئے گئے ہیں اور ممبر مالک کے ویٹو کے حق کو محدود کیا گیا ہے۔ اب تک ہر ممبر ملک کو ہر فیصلہ پر ویٹو کا اختیار حاصل ہے لیکن نئے آئین میں بہت سے معاملات اکثریت کی رائے سے فیصل ہوں گے۔

نئے آئین میں اتحاد کا ایک باقاعدہ صدر تجویز کیا گیا ہے جو ڈھائی سال کے لئے اتحاد کی ممبر ملکوں کے وزراء کی کونسل منتخب کرے گی۔ اس وقت چھ چھ مہینہ بعد اتحاد کی صدارت ممبر ملکوں میں گردش کر تی ہے۔

آئین میں اتحاد کے ایک وزیر خارجہ کی تقرری کی بھی تجویز ہے اور دفاعی معاملات میں قریبی مشاورت پر زور دیا گیا ہے۔

اب تک یورپی اتحاد کو غیر ملکی تجارت، کسٹمز پالیسی داخلی مارکٹ اور مالی پالیسی پر قانون سازی کا اختیار ہے۔ نئے آئین کے تحت اتحاد عدلیہ کی پالیسی اور امیگریشن کے معاملات میں بھی قانون سازی کر سکے گا۔

یہ آئین دراصل دو موقفوں کے درمیان ایک مفاہمت اور مصالحت ہے۔ ایک موقف یہ ہے کہ یورپ میں امریکا کی ریاستوں کی طرح ایک متحدہ ریاست قایم کی جائے دوسرا موقف یہ ہے کہ یورپ کے تمام ممالک اپنا الگ،تشخص برقرار رکھتے ہوئے اتحاد قایم رکھیں۔

گذشتہ سال جب سربراہوں نے نیا ا آئین منظور کیا تھا تو یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئین کی توثیق کا عمل دو برس میں مکمل کیا جائے۔ اس لحاظ سے تمام ملکوں کو اگلےسال ستمبر تک آئین کی توثیق کا عمل مکمل کرنا لازمی ہے۔

ٹونی بلئیر خوش

فرانس کے ریفرنڈم کے نتیجہ سے جہاں فرانس سیاسی بحران میں مبتلا ہوا ہے اور یورپی یونین غیر یقینی کی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے، برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے لئے یہ فیصلہ خوش آیند ہے۔

اب انہیں اتحاد کے آئین پر ریفرنڈم کے پھندے سے نجات مل جائے گی۔ ٹونی بلییر کو احساس ہے کہ برطانیہ کے عوام اس مسئلے پر سخت بٹے ہوئے ہیں اور ان کی اکثریت اتحاد کے اس آئین کی مخالف ہے جس کے پیش نظر ان کے لئے اس کے حق میں ریفرینڈم جیتنا بہت مشکل ہے لہذا ریفرنڈم میں شکست کی خفت سے یہ کہہ کر بچا جا سکتا ہے کہ فرانس کے فیصلہ کے بعد اب آئین کا وجود ہی ختم ہو گیا لہذا اس پر ریفرنڈم کرانے کا کوئی جواز نہیں۔

بہرحال اگلی جولائی میں برطانیہ کے کاندھوں پر یورپی اتحاد کی صدارت کی ذمہ داری آن پڑے گی اس لحاظ سے برطانیہ کی قیادت میں اتحاد کے مستقبل کے بارے میں فیصلے ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد