یورپی یونین: تلخ کلامیاں، اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان یونین کے بجٹ پر اختلاف شدید ہو گئے ہیں اور اس بحران کے باعث ممبر ملکوں میں تلخ بیانات کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے۔ جرمنی کے کونسلر گیرہارڈ شروڈر نے برطانیہ اور ہالینڈ کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ہٹ دھرمی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ رویے ہی یورپی یونین کا گھمبیر ترین مسئلہ ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا نےگیرہارڈ شروڈر کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کی یہ ناکامی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کی سربراہ کانفرنس اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب برطانیہ نے فرانس کی طرف سے پیش کی جانے والی ایک تجویز رد کر دی تھی۔ برسلز سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ یورپی یونین کی تاریخ میں ممبر مملک درمیان کبھی اتنے شدید تلخ بیانات کا تبادلہ نہیں ہوا۔ گزشتہ ماہ یورپی یونین کے چند ملکوں میں یونین کے آئین پر بارے میں کرائے جانے والے ریفرنڈم میں ووٹروں کی طرف سے منفی ووٹ دیے جانے کے باعث یونین کے مستقبل کے بارے میں شکوک شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ اس غیر یقینی صورت حال سے دوچار یونین کو اب بجٹ پر رکن ممالک میں اختلافات کا سامنا ہے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے بھی برطانیہ کے رویے پر تنقید کی اور اس کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ بعض امیر ملکوں کا غرور ان کےلیے حیرانی کا باعث ہے۔ برطانیہ نے یونین کی طرف سے ملنے والی ’ریبیٹ‘ میں تخفیف کی تجویز کو یونین کے ملکوں میں زراعت کے شعبے میں دی جانے والی امدادی رقوم میں اصلاحات کے بغیر قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ گیرہارڈ شروڈر نے کہا کہ برطانیہ اور ہالینڈ کا رویہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ برطانیہ نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تجویز کو رد کرنے میں تنہا نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||