قرضے معاف کریں: عراقی وزیراعظم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے امیر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ عراق کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے اس کو دیئے گئے تمام قرضے معاف کر دیں۔ نوری المالکی جمعرات کو بحیرۂ احمر کے ساتھ واقع مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ میں امیر خلیجی ریاستوں اور عالمی طور پر طاقتور ممالک کی دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ عراقی وزیراعظم نے کانفرنس کے مندوبین سے درخواست کی کہ وہ ایک وفاقی اور جمہوری عراق کی تعمیر میں مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کو تعمیرِ نو کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔ تاہم سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعودالفیصل کا کہنا تھا کہ صرف ان کے ملک نے عراق کو دیئے گئے کچھ قرضے معاف کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے امریکی اور عراقی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ سعودی عرب نے عراق کو دیئے گئے سترہ ارب ڈالر میں سے 80 فیصد معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ عراق کے وزیرِ خزانہ بائن جبور نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ روس کا مطالبہ ہے کہ قرضے معاف کرنے کے بدلے عراقی تیل کے ذخائر (استعمال کرنے) کے حقوق دیئے جائیں۔ شرم الشیخ میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد ایک ایسے پانچ سالہ منصوبے کی توثیق کرنا ہے جس کے تحت عراق میں اصلاحات، قومی یگانگت اور تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون کا کہنا تھا ’عراق ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور عراقی عوام ان اہداف (تعمیر نو وغیرہ) کے حصول کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں‘۔
جمعہ کو مذاکرات کے ایک علیحدہ دور میں عراق کے ہمسایہ ممالک اور عالمی طاقتیں عراق کی سکیورٹی کے مسئلے پر غور کرینگے۔ ایران اور شام کے علاوہ امریکہ، جی 8 اور یورپی یونین کے نمائندے مذاکرات کے اس دور میں حصہ لینگے۔ امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے شامی ہم منصب سے بھی ملاقات کرینگی۔ امریکہ اور شام کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ آخری دفعہ جنوری سال 2005 میں ہوا تھا۔ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے دوران ان کی ملاقات اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’وہ ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی سے ملاقات اور تبادلۂ خیال سے اجتناب نہیں کرینگی‘۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سال 1979 کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارتخانہ پر قبضے کے بعد سے سفارتی سطح پر بہت کم رابطہ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں بُش: عراق سے واپسی کا ِبل ویٹو01 May, 2007 | آس پاس ایران سے مذاکرات ناممکن نہیں: رائس30 April, 2007 | آس پاس سکیورٹی آپریشن کامیاب ہورہا ہے:بش20 April, 2007 | آس پاس چالیس لاکھ عراقی بے گھر: اقوام متحدہ18 April, 2007 | آس پاس عراق: اختلافات شدید، تشدد جاری15 April, 2007 | آس پاس ’عراق پالیسی ناقص ہے‘11 April, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||