ناول نگار سڈنی شیلڈن انتقال کرگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف امریکی ناول نگار اور ٹیلی ویژن لکھاری سڈنی شیلڈن کا 89 برس کی عمر میں کیلی فورنیا میں انتقال ہوگیا ہے۔ مجموعی طور پر اُن کے ناولوں کی کوئی 35 کروڑ کاپیاں اس وقت گردش میں ہیں۔ Naked Face, Rage of Angles, Bloodline اور The Other side of Midnight جیسے معروف ناولوں کے مصنف سڈنی شیلڈن بِلا شبہ دُنیا کے مقبول ترین ناول نگاروں میں سے تھے۔ گِنز بُک آف ورلڈ ریکارڈز نے انھیں آج سے دس برس پہلے دنیا کا سب سے زیادہ ترجمہ کیا جانے والا مصنف قرار دیا تھا کیونکہ اُن کے ناول 51 زبانوں میں ترجمہ ہوکر دنیا کے 108 ممالک میں پڑھے جاتے ہیں۔ انہیں سن 1948 میں ’دی بیچلر اینڈ دی بابی سوکسر‘ جیسی معروف فلم کے لیے اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اُن کے ذاتی حالات بھی کسی ناول کے پلاٹ سے کم دلچسپ نہیں تھے۔ اُن کا بچپن امریکی تاریخ کا بدترین اقتصادی دور تھا جسے آج ہم مہا مندی یا Great Depression کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ 1934 میں جب وہ سترہ برس کے تھے تو بھوک اور بیکاری سے تنگ آکر انھوں نے خودکشی کا منصوبہ بنایا لیکن اس سے پہلے کہ گلے میں پھندا ڈالتےانھیں ہالی وُڈ سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں ایک فلم کا سکرین پلے لکھنے کی دعوت دی گئی تھی۔
اور یوں زندگی سے بیزار یہ نوجوان ہالی وُڈ اور براڈوے کا ایک مقبول ڈرامہ نگار بن گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران سڈنی شیلڈن نے ایک جنگی پائلٹ کے طور پر محاذ کا تجربہ بھی حاصل کیا اور خاتمۂ جنگ پر پھر سے ڈرامے اور سکرین پلے لکھنے شروع کردیئے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انھوں نے پہلا ناول 1970 میں لکھا جب اُن کی عمر 53 برس ہو چُکی تھی۔ اس سے پہلے وہ ڈرامے، سکرین پلے اور ٹی وی سیریل ہی لکھتے رہے تھے۔ جس طرح پاک و ہند میں تیرتھ رام فیروزپوری، ابنِ صفی، گلشن نندہ، دت بھارتی اور رضیہ بٹ کو لاکھوں افراد پڑھتے ہیں لیکن ناقدینِ ادب انھیں مصنف ہی نہیں سمجھتے، اسی طرح انگریزی ادب کے سکّہ بند نقادوں نے سڈنی شیلڈن کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہمیشہ انکی مقبولیت پر ناک بھوں چڑھائی ہے۔ لیکن سِڈنی بھی عرُفی کیطرح غوغائے رقیباں سے بے نیاز آخری دم تک اپنے قارئین کو دلچسپ تحریروں سے محظوظ کرتے رہے۔ اُردو کے معروف شاعر اور ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد نے آنجہانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بے پناہ مقبولیت حاسدوں کو بھی جنم دیتی ہے جیسا کہ غالب نے کہا تھا: حسد سزائے کمالِ سخن ہے کیا کیجے ہدایتکار شہزاد رفیق نے کہا کہ سڈنی شیلڈن کے ناولوں کی مقبولیت کوئی اتفاقی امر نہیں ہے کیونکہ انھوں نے عمرِ عزیز کا ایک بڑا حصّہ قلم کی مزدوری میں صرف کیا تھا۔ بے روزگاری، بھوک، جنگ اور فاقے اُن کےلئے کتابی باتیں نہیں تھیں بلکہ یہ اُن کی آپ بیتی تھی۔ جی سی یونیورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے صدر اور اُردو میں اپنی طرز کے واحد ناول ’غلام باغ‘ ٰ کے مصنف مرزا اطہر بیگ کا کہنا تھا کہ عوامی مقبولیت اور ادبی معیار کوئی متضاد چیزیں نہیں ہیں۔ چارلس ڈکنز بے حد مقبول اور ہر دِل عزیز ہونے کے باوجود انگریزی ادب میں ایک سنجیدہ مقام رکھتا ہے۔ خود ہمارے یہاں کرشن چندر کی مثال موجود ہے جو بیک وقت پاپولر اور معیاری ادب تخلیق کرتا رہا تھا۔ چنانچہ عوامی مقبولیت کو سڈنی شیلڈن کی طاقت تو قرار دیا جاسکتا ہے کمزوری نہیں۔ |
اسی بارے میں قومی تضحیک: سماعت رُک گئی16 December, 2005 | آس پاس شہوت انگیز ادب کا جدید کلاسک 09 August, 2005 | قلم اور کالم راجہ راؤ: حقیقت یا سراب کی فکر23 July, 2006 | فن فنکار گوگل: کتابیں چھاپنے کی سہولت30 August, 2006 | نیٹ سائنس شوکت صدیقی انتقال کر گئے18 December, 2006 | فن فنکار کملیشور انتقال کر گئے28 January, 2007 | انڈیا میڈیا اتھارٹی ترمیمی بل پیش08 October, 2004 | صفحۂ اول ’حقارت، مسلمانوں نہیں، اسلام کے لئے‘17.09.2002 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||