میڈیا اتھارٹی ترمیمی بل پیش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس‘ میں بڑے پیمانے پر ترامیم کرنے کے لیے بل جمعہ کی شام کو قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے پیش کردہ اس بل کے بیان کردہ مقصد کے مطابق’ کراس میڈیا‘ پر عائد پابندی ختم کرنا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد اخباری مالکان کو ریڈیو یا ٹیلی ویژن لائسنس جاری کیے جا سکیں گے۔ تیرہ صفحات پر مشتمل پچیس شقوں میں ترامیم کے اس بل میں مختلف تجاویز دی گئی ہیں۔ جس کے مطابق’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ کو جسے پیمرا بھی کہا جاتا ہے، خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی ریڈیو یا ٹی وی سٹیشن کا نہ صرف لائسنس منسوخ کرنے بلکہ تمام آلات ضبط کرنے کا اختیار بھی دیا جا رہا ہے۔ اس ترمیمی بل کے بعد پیمرا اور عام لوگوں کے درمیاں کسی متنازعہ معاملے کی صورت میں حکومت کے مطابق’شکایات کونسل‘ کو بطور مصالحتی ادارہ معاملات نمٹانے کے لیے با اختیار بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد پیمرا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق مل جائے گا۔ اس اتھارٹی کے گزشتہ دو برسوں کے تجربے کی بنیاد پر پیدا ہونے والی پیچدگیوں کے خاتمے کے لئے کئی تجاویز شامل کی گئی ہیں تاکہ فریقین کے درمیان معاملات کو بخوبی جلد نمٹایا جا سکے۔ پیمرا آرڈیننس کی شق بتیس میں ترمیم کرتے ہوئے اس ادارے کو اختیار دیا گیا ہے کہ خلاف قانون کسی بھی معاملے میں کسی بھی ادارے کو مفاد عامہ میں کسی کاروائی سے مستشنیٰٰ قرار دے دے۔ پیمرا آرڈیننس کی شق تیس میں مجوزہ ترمیم کے مطابق کسی بھی کمپنی کے حصہ دار مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت لیے بغیر اپنے حصص کسی ایسے شخص یا ادارے کو فروخت کرنے کے مجاز نہیں جو کمپنی بنتے وقت حصہ دار نہ ہوں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں اجارہ داری کو روکنے پر اس قانون میں زور دیا گیا ہے وہاں یہ شق شامل کرنا اس مقصد کے منافی ہے۔ مجوزہ ترامیم کے اس بل کے متن کے مطابق پیمرا کے چیئرمین اسٹنٹ جنرل مینیجر یا اس سے بالا عہدے کے کسی افسر کو نامزد کرسکتا ہے جو کہ لائسنس منسوخ کرنے یا ممنوعہ آلات کے استعمال کی صورت میں انہیں ضبط کرسکتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت کئی اخباری مالکان ایسے ہیں جو مختلف ممالک میں قائم کردہ دفاتر کے ذریعے ٹیلی ویژن چینل چلا رہے ہیں۔ اس قانون کی منظوری کے بعد پیمرا کھلی بولیوں کے ذریعے کسی بھی اخباری مالک کو لائسنس جاری کرسکے گا۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ پچیس اکتوبر تک یہ بل قومی اسمبلی سے منظور کرائے اور ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں یہ بل پیش کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||