ممنوع کتاب کا دوسرا حصہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایرانی مصنفہ سرتاپی نے اپنی غیر متوقع طور پر مشہور ہونے والی کتاب پرسی پولیس کا دوسرا حصہ ریلیز کیا ہے۔ ناول کے پہلے حصے میں انہوں نے ایران میں انقلاب کے دوران اپنے بچپن میں بیتنے والے واقعات تصویری شکل میں بیان کیے ہیں۔ اب اس دوسرے حصے میں انہوں نے اپنی جلا وطنی کا دور اور انقلاب کے بعد وطن واپسی کو مزاحیہ خاکوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ناول کا پہلا حصہ سرتاپی نے 1984 میں مکمل کیا تھا جب وہ بہت چھوٹی تھیں اور انہیں ان کے والدین نے آسٹریلیا بھیج دیا تھا۔ یہ کتاب غیر متوقع طور پر ہِٹ ہوگئی تھی۔ اب وہ پیرس میں مقیم ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ’تصویری زبان عالمی زبان ہے۔ اس کے لیے آپ کو کوئی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ ایک اداس شخص دکھانا چاہتے ہیں تو وہ چاہے چینی ہو یا جاپانی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کی اداسی سب دیکھ سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کہانی بہت پیچیدہ تھی اور اس کے لیے بے شمار لفظوں کی ضرورت تھی اور الفاظ میں یہ سب کہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ ان کی دوسری کتاب پرسی پولیس ٹو اداس انداز میں ختم ہوتی ہے۔ سرتاپی کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار جتنی زیادہ پیرس میں ہے اتنی ایران میں نہیں۔ ان کی کتاب ایران میں محدود پیمانے پر صرف چند ہی لوگوں کے سامنے آئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس ناول کے بعد ان کا تیسرا ناول نہیں آئے گا کیونکہ اب وہ پیرس میں مستقل طور پر مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں ایران کے بارے میں کچھ کہنے کا حق نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||