BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجہ راؤ: حقیقت یا سراب کی فکر

حقیقت یا سراب؟ یہ سوال راجہ راؤ کے فکر پر چھایا رہا
’اس آدمی نے اپنی بیوی سے کہا، دنیا یا حقیقی ہے یا پھر غیرحقیقی، یا سانپ ہے یا رسی، بیچ والی کوئی چیز نہیں۔‘ پون صدی پہلے اپنے ناول میں ایسی سطر لکھنے والے راجہ راؤ اب نہیں رہے، نہیں رہے۔

راجہ راؤ غیر منقسم اور اب منقسم یا جدید ہندستان میں انگریزی ادب کے اوائلی تخلیق کاروں میں سے ایک تھے جو اسی ماہ جولائی کی آٹھ تاریخ کو یہاں امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں فوت ہوگئے-

میں کہوں گا راجہ راؤ کی تحریروں کا تانہ بانہ کھدر سے جینز تک کے زمانوں تک پھیلا ہوا تھا- وہ ہندستان میں ان انگريزی ناول نگاروں میں سے تھے جو زبردست گاندھی وادی یا گاندھین ہوتے ہوئے بھی اپنی تحریروں میں نعرے بازی کرتے دکھائی دینے کے بجائے اپنے آدرش نہایت ہی آرٹ میں برتتے نظر آتےہیں۔

اس کی مثال ان کا انیس سو تیس کے عشرے میں چھپنے والاپہلا ناول ’کنٹھا پورہ‘ ہے جس کا مرکزی کردار جنوبی ہند کے گاؤں (جو شاید راجہ راؤ کا اپنا گاؤں ’حسن‘ ہی تھا جو کرناٹک ریاست میں تھا) سے دہلی جاتا ہے اور وہاں سے ’باپو جی‘ کے خیالات کا زبردست حامی بنکر لوٹتا ہے اور گاؤ میں بدیسی سامراج کےنکالنے کی بات کرتا ہے لیکن وہ یہ سب کچھ اپنے گاؤں کے چائے کے باغات کے مالک سے بغاوت کرکے شروع کرنا چاہتا ہے۔

راجہ راؤ کا ناول ’کنٹھا پورہ‘
 ناول نگار ای ایم فورسٹر جس نے بھی برطانوی استعماریت کے خلاف ’اے پیسیج ٹو انڈیا‘ جیسا ناول لکھا، راجہ راؤ کے ناول ’کنٹھا پورہ‘ کو کسی بھی انڈین کی طرف سے لکھا ہوا عظیم ناول قرار دیا تھا-
راجہ راؤ ’کنٹھا پور‘ کی یہ کہانی اس نوجوان کی نانی کی زبانی انتہائی آرٹ میں سناتے نظر آتے ہیں۔ ایک ایسی کہانی جسے سنتے شاید کرانتیکاروں یا انقلابیوں کو پھانسی کے تختوں پر بھی نیند آجائے-

ناول نگار ای ایم فورسٹر جس نے بھی برطانوی استعماریت کے خلاف ’اے پیسیج ٹو انڈیا‘ جیسا ناول لکھا، راجہ راؤ کے ناول ’کنٹھا پورہ‘ کو کسی بھی انڈین کی طرف سے لکھا ہوا عظیم ناول قرار دیا تھا-

یہ وہ زمانہ تھا جب احمد علی جیسے تب کے نوجوان لکھاریوں ( ’ٹوئلائیٹ ان دہلی‘ اور ’ریٹس اینڈ ڈپلومیٹس‘ کے خالق جو ایک منجھے ہو‎ سفیر بھی بنے) کے افسانوں پر بندش پڑتی تھی، ان پر کفر کے فتوے اور بغاوت کے الزامات لگتے تھے اور ان کے افسانے چھاپنے والے جریدیوں کو جلایا گیا تھا-

راجہ راؤ نومبر انیس سو آٹھ کو جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے گاؤں ’حسن‘ میں ایک ٹیچر کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ یہ برہمن زادہ پھر سخت گاندھی وادی اور آخر عمر تک ایک ما بعدالطبیعیاتی رہے- دھرما اور کرما کیا کیا ہے، موت و حیات کیا ہے، نیکی اور بدی کیا ہے ؟ ایک شاگرد چاہے، لکھاری کی حیثیت کے وہ ایک ادبی تخلیق کار سے زیادہ ایک فلسفی تھے- یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیوسٹن میں انگریزی ادب کے شعبے کا یہ پروفیسر ایمرٹس اپنے لکھنے اور بولنے میں اس بڑی جستجو میں رہا کہ سراب کیا ہے اور حقیقیت کیا ہے۔

وہی فلم ’رضیہ سلطانہ‘ کے گانے کے موافق یا اس کے والی بات ’ہم بھٹتکے ہیں کیوں بھٹکتے ہیں دشت و صحراہ میں!‘ (میرا نمبر ون پسندیدہ ہندی/اردو/واٹ ایور گیت۔) ایسا لگتا ہے ’موج پیاسی ہے اپنے دریا میں‘، کیا بات ہے ہمارے شاعر اور گانے والی کی!

مدراس سے سوربون تک
 مدراس یونیورسٹی سے بی اے پاس کرنے کے بعد ایک اسکالر شپ پر، پاسپورٹ پر اپنے اصل نام راجہ کے پیچھے راؤ لگادینے والا، یہ نوجوان ودیارتھی یا پڑھاکو فرانس گیا- اس نے یونیورسٹی آف مونٹ پليئر اور سوربون میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ فرینچ اور ہندستانی رسالوں میں کہانیاں لکھیں اور ایک فرینچ خاتون سے عشق کیا، اس سے شادی کی اور پھر علیحدگي اور طلاق، اور آخر میں اس کے ٹوٹ جانے پر آگے جاکر انیس سو ساٹھ میں ایک ناول لکھا ’سرپینٹ اینڈ روپ‘ یا سانپ اور رسی-
مدراس یونیورسٹی سے بی اے پاس کرنے کے بعد ایک اسکالر شپ پر، پاسپورٹ پر اپنے اصل نام راجہ کے پیچھے راؤ لگادینے والا، یہ نوجوان ودیارتھی یا پڑھاکو فرانس گیا- اس نے یونیورسٹی آف مونٹ پليئر اور سوربون میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ فرینچ اور ہندستانی رسالوں میں کہانیاں لکھیں اور ایک فرینچ خاتون سے عشق کیا، اس سے شادی کی اور پھر علیحدگي اور طلاق، اور آخر میں اس کے ٹوٹ جانے پر آگے جاکر انیس سو ساٹھ میں ایک ناول لکھا ’سرپینٹ اینڈ روپ‘ یا سانپ اور رسی-

شرت چندر چیٹر جی کے ’یشوداس‘ میں چنتا منی سے ملنے کے لیے جانیوالے ہمارے ہیرو یشوداس کی وہ تو حرکت یاد ہوگی جب وہ جسے رسی سمجھ کر اس رات چنتا منی سے ملنے گیا تھا وہ رسی نہیں اصل میں سانپ تھا۔ میرے خیال میں سانپ اور رسی کا سراب یا اس کی حقیقت راجہ راؤ کے اس ناول اور زندگي کی باقی گتھیاں سلجھانے کی کوششوں والے سوالوں پر غالب رہی ہوں گی-

انیس سو تیس کے عشرے والے سالوں کا یہ زمانہ جب ہندستانی ادب میں شاید ملک راج آنند، سجاد ظہیر اور احمد علی جیسے جوانوں کا طوطی بولتا تھا- سارے بورجوازی خاندانوں کے ’انقلابی‘ ادیب وجے لکشمی پنڈت اور سروجنی نائیڈو سے دوستی کرنا مانگتے تھے- ’ ہم ہوئے کہ وہ سالا میر ہوئے، سب ایک زلف کے اسیر ہوئے!‘

تب یہ گاندھی وادی مابعدالطببعیاتی ایک برہمن اور فرانسیسی عورت کے بیچ کشش اور کشمکش کی گتھیاں سلجھاتا رہا- ’جو بھی پرندوں کا جوڑا ہے، اسکا انت وچھوڑا ہے-‘ ‏عظیم سندھی شاعر شیخ ایاز نے کہا تھا-

انگریزی دانشورانہ ’میک اپ‘ ہے
 راجہ راؤ کی ہندستانی روح کے اظہار کی زبان اگرچہ انگریزی تھی مگر انہوں نے کہا تھا: ’ آدمی کو اپنا مافی الضمیر اس زبان میں بیان کرنا پڑتا ہے جو زبان اس کی نہیں، اس کی روح اس کی نہیں، انگریزی ہمارا دانشورانہ ’میک اپ‘ ہے جیسا کبھی سنسکرت یا فارسی ہوا کرتی تھی لیکن یہ ہمارا جذباتی، میک اپ نہیں۔
راجہ راؤ کی ہندستانی روح کے اظہار کی زبان اگرچہ انگریزی تھی مگر انہوں نے کہا تھا: ’ آدمی کو اپنا مافی الضمیر اس زبان میں بیان کرنا پڑتا ہے جو زبان اس کی نہیں، اس کی روح اس کی نہیں، انگریزی ہمارا دانشورانہ ’میک اپ‘ ہے جیسا کبھی سنسکرت یا فارسی ہوا کرتی تھی لیکن یہ ہمارا جذباتی، میک اپ نہیں۔ ہم انگریزوں کی طرح نہیں لکھ سکتے، ہمیں ان کی طرح لکھنا بھی نہیں چاہیے اور ہمیں ایک ہندستانی کی طرح بھی نہیں لکھنا چاہیے- اب ہم اپنی دنیا کو وسیع کینوس میں دیکھنے کے لیے بڑے ہوگئے ہیں۔

ای ایم فورسٹر اور احمد علی جیسے مہان لیکھک راجہ راؤ کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ جب دوسری جنگ عظیم چھڑي تو کہتے ہیں کہ راجہ راؤ اپنے تئيں ہندوستان بھاگ آ‎ئے اور اس دوران انہوں نے زیادہ تر وقت گاندھی جی کے آشرموں میں گزارا-

انیس سو چھیاسٹھ سے اسی کی دہائي تک راجہ راؤ نے یہ عرصہ درس و تدریس میں یونیورسٹی آف ٹیکساس میں آسٹن میں گزارا اور انہوں نے تین مرتبہ شادیاں کی لیکن حقیقت اور سراب کا مسئلہ لگتا انکے تئیں کبھی بھی حل نہیں سکا اور نہ ہی نیکی اور بدی اور دھرما یا کرما کا، یا پھر موت اور اور زندگی کا-

یونیورسٹی آف ٹیکساس میں انگریزی ادب کے پروفیسر ایمریٹس کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہ گاندھی ازم تا ماکسزم جیسے کورس پڑھاتے رہے تھے۔

ہاف دی اسکائیہاف دی اسکائی
بھارت میں پاکستانی خواتین مصنفین کی کتاب
بے بی ہالدار کی دوسری کتاب بھی شائع ہورہی ہےملازمہ سے ادیب
دلی کی گھریلو ملازمہ جو مقبول ادیبہ بن گئیں
اسی بارے میں
جن سے اردو محروم ہو گئی
22 December, 2005 | قلم اور کالم
’تہذیبوں کی ٹوٹ پھوٹ‘
13 March, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد