منوہر شیام جوشی انتقال کرگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندی زبان کےمعروف ادیب اور صحافی منوہر شیام جوشی 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ سوگواروں میں ان کی اہلیہ اور تین بیٹے ہیں۔ انیس سو بیاسی میں انہوں نے ہی ہندی زبان کے پہلے ٹیلی ویژن سیریل ’ہم لوگ‘ کا سکرپٹ لکھا تھا۔ انہیں بھارت میں ٹیلی ویژن سیریلز کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ بیماری کے سبب شیام جوشی گزشتہ کچھ دنوں سے ہسپتال میں تھے۔ وہ 1933 میں انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع الموڑہ میں پیدا ہوئے۔ ٹی وی پر 1982 میں ان کے سلسلے وار ڈرامے ’ہم لوگ‘ سے ہندوستان کی ٹیلیویژن انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ ’ہم لوگ‘ کے ذریعے ٹی وی پر سلسلہ وار ڈراموں میں پہلی بار خاندان کے پیچیدہ رشتوں، افراد کے احساسات وجذبات اور زندگی کے مختلف اتارچڑھاؤ کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گيا تھا۔ ’ہم لوگ‘ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی نشریات کے وقت ٹی وی سینٹروں کے سامنے ناظرین کی ایک بڑی بھیڑ جمع رہتی تھی اور لوگ بڑی بے صبری سے اس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد جوشی نے ’بنیاد‘ کے نام سے ایک دوسرا سیریل لکھا اور وہ بھی خوب مقبول ہواتھا۔ جوشی کی تحریریں اپنے تیکھے طنز کے سبب بھی کافی مشہور تھیں۔ انہوں نے’ کّکا جی کہن‘ اور ’منگیری لال کے حسین سپنے‘ جیسے مقبول طنزیہ سیریل بھی لکھے تھے۔ انہوں نے ہندی فلم ’اپّو راجہ‘ اور ’ہیے رام‘ کی کہانی بھی لکھی تھی۔ شیام جوشی کے چند ناولوں کو بھی کافی شہرت ملی ہے۔ صحافت کے میدان میں انہوں نے خوب طبع آزمائی کی ہے۔ وہ ’ہندوستان ویکلی‘ کے ایڈیٹر تھے اور انہوں نے سائنس وٹیکنالوجی اور سیاست سمیت بہت سے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ گزشتہ برس منوہر شیام جوشی کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ہندی کے مشہور ادیب کملیشور نے ان کے انتقال پر اپنے ردوعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’شیام جوشی کا انتقال ہندی ادب کے لیے ایک حادثہ ہے۔ وہ عظیم شخص تھے جن میں بڑی خوبیاں تھیں‘۔ | اسی بارے میں پاکستانی خواتین مصنفین کی کتاب بھارت میں 10 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||