BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 January, 2006, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوگل ڈیجیٹل لائبریری؟
گوگل
گوگل ڈیجیٹل لائبریری
انٹرنیٹ پر سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے دنیا کی اہم لائبریریوں میں موجود کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں ڈھالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

دو سو ملین ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت گوگل امریکہ کی چار بڑی لائبیریوں کا مواد ، جن میں سٹینفورڈ ، ہارورڈ ، مشی گن اور نیویارک پبلک لائبریریاں شامل ہیں، 2015 تک ڈیجیٹل شکل میں ڈھالے گا۔

ہزاروں کتابوں کو سکین کیا جا چکا ہے لیکن پبلیشرز اور مصنفوں کی جانب سے گوگل کو مخالفت کا سامنا ہے۔ قانونی پیچیدگیوں کے باعث گوگل نے ڈیجیٹل لائبریری کے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

کیا آپ کے خیال میں گوگل کو قانونی اجازت دے دینی چاہیے؟ کیا اس سے مصنف اور ناشر متاثر ہوں گے؟ کیا گوگل ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے زیادہ کتابیں بیچ سکتا ہے؟ ہزاروں آن لائن اخبار ہونے کے باوجود پرنٹ میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، کیا ڈیجیٹل لائبریری اصل کتاب اور لائبریری کے وجود کو تبدیل کر سکتی ہے؟ کیا کتابوں کا مستقبل یہی ہے؟ کیا آپ انٹرنیٹ پر کتابیں پڑھنا چاہیں گے؟ کیا آپ کے خیال میں ترقی پذیر ممالک کو ڈیجیٹل لائبریری کا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟



یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آرا درج ذیل ہیں۔

آپ کی رائے

چوھدری اشفاق سمیع، سرگودھا:
یہ اچھا ہے لیکن اتنا بھی اچھا نہیں کیونکہ انٹر نیٹ پر کتاب سرچ کرنا آسان نہیں۔

رفیق شاکر، پاکستان:
آج کل ہر شخص لائبریری بنانا چاہتا ہے لیکن اتنے پیسے نہیں لا سکتا، اس لیے اس سائیٹ سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔

ذین غوری، کراچی، پاکستان:
ا س سےلوگوں کے علم میں اضافہ ہوگا اس لیے اس کی اجازت ضرور ملنی چاہیے۔

عمران یوسف، قطر:
یہ ایک بہت ہی اچھا قدم ہے۔ آج کل ہر چیز آن لائین میسر ہے۔ اس اقدام سے طالبعلموں کو بہت فائدہ ہوگا۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
اس قانونی اجازت سے تعلیم بہت سستی ہو جائے گی اور ہر ایک آدمی معمولی سے پیسے خرچ کر کے مفید معلومات سے بہرہ ور ہو جائے گا۔ یوں تعلیم سے امیروں کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی اور غریب کو ان کا مقابلہ کرنے میں یہ اقدام ایک کنجی ثابت ہو گا۔

رضوان الحق، فرانس:
ہر چیز کا ایک لائیف سایئکل ہوتا ہے، کتابوں کی شکل تبدیل ہونے کا وقت آ چکا ہے۔ کتاب کی ڈیجیٹل شکل کتاب کو پڑھنا آسان بنا دے گی۔ اس میں آپ کو من پسند مواد صرف کچھ کلک سے مل جاتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ انسانی دماغ کسی بھی چیز کی تبدیلی کو قبول نہیں کرتا لیکن وقت کے ساتھ کسی بھی چیز کی تبدیلی قبول کر لیتا ہے۔ بات رہی کاپی رائیٹ کی تو اس کو حل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ پبلشرز اور مصنفوں کو ان کی رائیلٹی اشتہاروں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے دی جا سکتی ہے۔

محمد ایاز بٹ، گجرات، پاکستان:
یہ تیسری دنیا کے ملکوں کےلیے تحفہ ہے ورنہ علم کے خزانے تک ہماری رسائی کبھی بھی نہ ہو سکے۔

ڈاکٹر اختر، پاکستان:
یہ ضرور ہونا چاہیے، اس سے علم کے حصول میں آسانی ہو گی۔

مبشر قریشی، گھوٹکی، پاکستان:
علم کسی کی مراث نہیں۔ اگر گوگل کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے تو یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔

شاہد خٹک، کرک، پاکستان:
یہ ایک بہت ہڑا قدم ہے ایسا کرنا چاہیے اس سے مصنفوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
ہزاروں کی تعداد میں پہلے ہی آن لائین کتابیں موجود ہیں لیکن جو کتاب کو پڑھنے کا مزہ ہے وہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے مصنف یا پبلشر کو نقصان نہیں ہو گا کیونکہ گوگل اس لائبریری کا استعمال مفت تو نہیں کرنے دے گا۔

عدیل عباس جعفری، کراچی، پاکستان:
گوگل کو یہ اجارت ضرور ملنی چاہیے۔ گوگل کے اس اقدام سے علم کے فروغ میں بہت مدد ملے گی۔ کاش کوئی ادارہ اردو کتابوں کو ڈیجیٹل کرنے کی لیے بھی قدم اٹھائے۔

محمد انصاری، پاکستان:
اس سے پہلے بھی ’وکی پیڈیا‘ کے نام سے اس قسم کی کوششش ہو چکی ہے لیکن فائدہ مند نہیں رہ سکی۔ اگر اس کی سکیورٹی کو قابلِ اعتماد بنایا جائے تو فائدہ ہو سکتا ہے۔

اسد فاروقی، دبئی، یو اے ای:
اس سے ان طالبعلموں کو فائدہ ہو گا جو کتابیں نہیں خرید سکتے۔

حنیف دورانی، کوئٹہ، پاکستان:
گوگل کو اجازت ہونی چاہیے کیونکہ دن بدن چیزیں ڈیجیٹل ہوتی جا رہی ہیں۔

توثیف اعجاز، جھنگ، پاکستان:
یہ بہت اچھا منصوبہ ہے اس کو مکمل ہونا چاہیے۔ اس کا مستقبل میں بہت فائدہ ہو گا۔

ثناء اللہ کھوسہ، پاکستان:
یہ بہت اچھی بات ہے خصوصاً تیسیری دنیا کے ملکوں کے لیے اس سے ان کو ہر مواد بیک وقت ملے گا۔

نیاز علی، سوات، پاکستان:
انٹر نیٹ کتابوں کا متبادل نہیں ہو سکتا لیکن پھر بھی یہ بہت اچھی چیز ہے اگر اس کی اجازت مصنف دے دیں۔

نرگس کریمی، نامعلوم:
اگر اس کی اجازت مل جائے تو ہمارے لیے اور ہماری اگلی نسل کے لیے بہت بہتر ہوگا۔

کتاب کا اپنا ہی فائدہ ہے
 یہ خیال تو بہت اچھا ہے لیکن جو فائدہ آپ ہاتھ میں رکھی ہوئی کتاب سے لے سکتے ہیں کمپیوٹر اس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کمپیوٹر ٹیکنولوجی جتنی بھی ترقی کر لے کتاب کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی۔ کتاب ایک الگ ہی مزہ دیتی ہے اور اس کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے سے جو راحت ملتی ہے میں نہیں سمجھتا کہ مجھے وہ کمپیوٹر سے مل پائے گی۔ ویسے یہ کوشش تو اچھی ہے لیکن کتاب کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
عاصم خالد، لاہور، پاکستان
عاصم خالد، لاہور، پاکستان:
یہ خیال تو بہت اچھا ہے لیکن جو فائدہ آپ ہاتھ میں رکھی ہوئی کتاب سے لے سکتے ہیں کمپیوٹر اس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کمپیوٹر ٹیکنولوجی جتنی بھی ترقی کر لے کتاب کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی۔ کتاب ایک الگ ہی مزہ دیتی ہے اور اس کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے سے جو راحت ملتی ہے میں نہیں سمجھتا کہ مجھے وہ کمپیوٹر سے مل پائے گی۔ ویسے یہ کوشش تو اچھی ہے لیکن کتاب کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

محمد ندیم سعید، امریکہ:
بلکل کرنا چاہیے، اس سے کتابیں سب کی پہنچ میں آ جائیں گی۔

ذولفقار علی، وہاڑی، پاکستان:
گوگل کا یہ منصوبہ بہت اچھا ہے۔

محفوظ رحمان، اسلام آباد، پاکستان:
دونوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ آپ کے پاس نہ تو ہر وقت کتاب ہو سکتی ہے نہ انٹرنیٹ۔ اس لیے کتاب اور انٹرنیٹ میں توازن کے لیے پبلشرز کے رائیٹس کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم مستقبل میں اچھی کتابوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی، پاکستان:
گوگل کے اس منصوبے میں ایک نقصان ہے اور ایک فائدہ۔ نقصان یہ کہ ان کتابوں کی انٹرنیٹ پر آ جانے سے ان کی اہمیت اور پبلشر کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی اور فائدہ یہ کہ غریب اور پسماندہ مملک کے لوگوں کی پہنچ میں یہ کتابیں ہو جائیں گی۔

عبدالحسیب، پشاور، پاکستان:
یہ بہت اچھا خیال ہے لیکن یہ کتاب کا متبادل نہیں بن سکتی۔

نصراللہ کھوسہ بلوچ، نواب شاہ، پاکستان:
اس سے مصنف اور پبلشرز کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ اس کے علاوہ لوگ کتاب سے اور زیادہ دور ہو جائیں گے۔

ساجد شاہ، یوکے:
گوگل کو قانونی اجازت دے دینی چاہیے، اس میں مصنف اور ناشر دونوں کو مزید رائیلٹی ملے گی اور اس کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ ترقی پذیر مملک کے لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ اگلی 15 -20 سال تک اصل کتاب کی اہمیت برقرار رہے گی۔

اکیل الرحمٰن، کراچی، پاکستان:
یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ تیسرے دنیا کے لوگوں کے لیے اتنی مہنگی کتابوں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

قیصر ملک، فنلینڈ:
ٹیکنولیجی میں ترقی کی وجہ سے آنے والے سالوں میں انٹرنیٹ آسانی سےکم قیمت پر چھوٹے آلات پر دستیاب ہو گا۔ کتابیں خریدنا اور سرچ کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ لیکن مصنفوں اور پبلشرز کے خدشات کسی حد تک صحیح ہیں۔ جس طرح میوزک اور فلموں کے ساتھ ہو رہا ہے کوئی بھی پراپرٹی رائیٹ کا خیال نہیں کرتا۔

سلیم نواز خان، سنگاپور:
یہ ہونا چاہیے لیکن گوگل کو مصنف اور ناشر سے مشورہ کر لینا چاہیے۔ کیونکہ کتاب کی ضرورت مستقبل میں پڑتی رہے گی۔

سنت کمار گھی، گھوٹکی، پاکستان:
ویسے بھی آج پوری دنیا میں کتاب کا رواج کم ہو رہا ہے اس لیے یہ سسٹم ٹھیک ہے۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ یہ صرف انگلش میں نہ ہو بلکہ یہ رومن اردو میں بھی ہونا چاہیے تو زیادہ اچھا رہے گا۔

لطف اسلام، یو کے:
میرے خیال میں انٹرنیٹ کتابوں کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کتابیں حصولِ علم کا واحد میڈیم ہیں۔ انٹرنیٹ سے صرف انفارمیشن مل سکتی ہے۔

توقیر چوھدری، امریکہ:
میرے خیال میں بہت ہی اچھا ہو گا اگر ایسا ہو جائے۔ کچھ لوگوں کو لائبریری جانے کا ٹائم نہیں ملتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لائبریری میں وہ کتابیں ہی نہ ہوں جو آپ کو چاہیں۔

ارسلان خان، تولمبا، پاکستان:
جے ہاں گوگل کو اس بات کی اجازت دے دینی چاہیے۔ اس سے مصنف اور ناشر متاثر نہیں ہوں گے اور میرے خیال میں گوگل لائبریری اس سے زیادہ کتابیں بیچ سکتی ہے۔ بہت سے لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اظفر صدیقی، امریکہ:
کیوں نہیں؟ یہ سوچیے کہ غریب ملکوں میں ان کتابوں کی رسائی کتنی آسان ہو جائے گی۔ ایسا ضرور ہونا چاہیے۔

عرفان صدیقی، کوئٹہ، پاکستان:
میرے خیال میں لائبریری کو انٹرنیٹ پر منتقل کرنا کچھ حد تک تو ٹھیک ہے۔ لوگ انٹرنیٹ پر ہی انفارمیشن اکٹھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ سہولت ان کو گھر بیٹھے مل جاتی ہے۔

اسی بارے میں
ویب سائٹ کا نیا استعمال
22 July, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد