ڈیجیٹل لائبریری منصوبے پرتنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے دنیا کی اہم لائبریریوں میں موجود کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں ڈھالنے کے منصوبے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ گوگل نے کروڑوں کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں اتار کر انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا میں ہر جگہ دستیاب کرنے کے اس منصوبے پر کام اس تنقید کے بعد روکا ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کتابوں کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی ہوگی۔ گوگل کے حکام نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر اس سال نومبر تک کام روکا جارہا ہے تاکہ اس سلسلے میں ناقدین کے شکوک و شبہات کو دور کیا جاسکے۔ دو سو ملین ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت گوگل امریکہ کی چار بڑی لائبیریوں کا مواد ، جن میں سٹینفورڈ ، ہارورڈ ، مشی گن اور نیویارک پبلک لائبریریاں شامل ہیں، 2015 تک ڈیجیٹل شکل میں ڈھالے گا۔ گوگل اسی منصوبے کے تحت برطانیہ کی یونیوسٹی آکسفورڈ کی ایسی کتابوں کو بھی ڈیجیٹل شکل میں اتارے گا جن کے کاپی رائٹس نہیں ہیں۔ گوگل کے حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ان کتابوں کی دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک رسائی کو آسان بنانا ہے لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کئی ناشرین کو خطرہ ہے کہ اس سے ان کتابوں کے کاپی رائٹس یا حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی مقصد کے لئے گوگل نے ان کتابوں کو سکین کرنے کا کام نومبر تک کے لئے ترک کردیا ہے۔ یہ وقفہ اس لئے دیا گیا ہے تاکہ ناشریب اور پبلشرز گوگل کو یہ بتا سکیں کہ کن کتابوں کو کاپی رائٹس کی وجہ سے سکین نہ کیا جائے۔ تاہم گوگل کے اس فیصلے سے بھی کئے پبلشر اور ناشر مطمئین نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گوگل کاپی رائٹس کے تمام قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||