BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
البانوی ناول نگار بُکر پرائز جیت گئے
اسمٰعیل کدارے
اسمٰعیل کدارے
اس سال شروع ہونے والے بین الاقوامی بُکر پرائز کے سلسلہ کے انعام کا حقدار البانیہ کے ادیب اسمٰعیل کدارے کو قرار دیا گیا ہے۔

اس مقابلے کے دوسرے شرکاء میں تین برطانوی ادیب موریل سپارک، ڈورس لیسنگ اور ائین میک ایوان شامل تھے۔

اسمٰعیل کدارے کوانعام کی رقم (ساٹھ ہزار پونڈ) اس ماہ کی ستائیس تاریخ کو ایڈنبرا میں ایک تقریب میں دی جائےگی۔

بین الاقوامی بُکر پرائز جیتنے کے بعد ناول نگار اسمٰعیل کدارے البانیہ کے سب سے زیادہ مشہور اورعالمی سطح پر جانے جانے والے ادیب بن گئے ہیں۔

انہیں نہ صرف ادب کے نوبل پرائز کے لیے نامزد کیاگیا ہے بلکہ اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ نوبل پرائز جیت کر رہیں گے۔

اپنے وطن البانیہ میں اسمٰعیل کدارے نے اپنی شناخت انور ہوکسا کی کیمونسٹ ڈکٹیٹرشپ کے دباؤ اور گھٹن کے دور میں بنائی۔

لیکن عالمی سطح پر لوگوں نے انہیں صرف اس وقت جاننا شروع کیا جب 1990 میں انہوں نےالبانیہ کو خیر آباد کہا اور فرانس میں سکونت اختیار کر لی۔

اسمٰعیل یونان کے ساتھ البانیہ کی سرحد کے قریب واقع گیروکاسٹر کے قصبہ میں پیدا ہوئے۔ یہ وہی قصبہ ہے جہاں ان کے مخالف انور ہوکسا اُن سے اٹھائیس برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔

پہلے انہوں نے یونیورسٹی آف تیرانا سے تعلیم حاصل کی اور پھر ماسکو یونیورسٹی کے گورکی انسٹیٹیوٹ برائے عالمی ادب میں پڑھے۔

انہوں نے بطور صحافی 1960 میں کام کرنا شروع کیا۔ یہ وہ سال تھا جب البانیہ نے سوویت یونین سے تعلقات منقطع کیے تھے۔

لیکن بطور شاعر اپنی ادبی زندگی کا آغاز وہ صحافت سے پہلے ہی کر چکے تھے۔ان کے دو شعری مجموعے ’یوتھفُل انسپیریشن‘ یا جوان امنگیں اور ’خواب‘ کے نام سے 1954 اور 1957 میں منظر عام پر آ چکے تھے۔

1060 میں کدارے نے نثر نگاری کی طرف رخ کیا اور 1963 میں اپنا پہلا ناول’مردہ فوج کا جرنیل، بعد از جنگ البانیہ کا ایک مطالعہ‘ کے نام سے شائع کیا۔

اس ناول نے البانیہ میں اُن کا نام بنایا اور انہیں ملک سے باہر سفر کرنےاور اپنی تحریریں شائع کرنے کی اجازت بھی مل گئی۔

لیکن 1975 میں حکام کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہو گئے اور ان پر تین سال کے لیے اشاعت کی پابندی لگا دی گئی۔

حالات میں بہتری کے دو سال ہی گزرے تھے کہ 1981 میں ’خوابوں کا محل‘ لکھنے پر وہ پھر حکام کے عتاب میں آگئے۔ ان کی یہ کتاب عین اسی دور کی پابندیوں کے بارے میں تھی جن کے تحت انہیں شائع ہونے سے روکا گیا تھا۔

اور پھر 1986 سے انہوں نے اپنی تحریریں البانیہ سے سمگل کر کے فرانس بھجوانا شروع کر دیں جہاں پر اُن کے ناشر نے یہ تحریریں محفوظ کرنا شروع کر دیں۔

1990 میں البانیہ میں انور ہوکسا کی حکومت گرنے سے کچھ عرصہ قبل اسمٰعیل کو فرانس میں سیاسی پناہ مل گئی۔

اسمٰعیل کدارے کا کہنا ہے ’ مطلق العنانی اور مسلمہ ادب ایک ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ یہ بات فطری ہے کہ ایک لکھنے والا کسی بھی آمر کا دشمن ہوتا ہے۔‘

اور شاید اسمٰعیل کدارے کے سلسلہ میں یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کیونکہ البانیہ سے نکلنے کے بعد ہی وہ دنیا کو اپنے کام کی طرف متوجہ کر سکیں ہیں۔

بُکر پرائز کے لیے رقم مہیا کرنےوالے ادارے ’مین گروپ‘ کے چئرمین ہاروی میگرا نے ایک بیان میں کہا کہ اسمٰعیل کدارے کے ناول البانیہ کی اقدار پر بہت روشنی ڈالتے ہیں۔‘

’ان کے ناول نہ صرف اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک قوم اپنی نوزائیدہ آزادی کے ساتھ کیا کرتی ہے بلکہ اسمٰعیل کدارے کی ذاتی زندگی کے پوشیدہ پہلؤوں سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد