کینیڈا کے اصول، مسلمان برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں بسنے والے تارکین وطن سے وہاں کی مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ عورتوں کو جلائیں نہیں، پتھر مارکر ہلاک نہ کریں اور نہ لڑکیوں کا ختنہ کریں۔ کیوبیک کے شہر ہیروکسوِلے کی انتظامیہ کی جانب سے یہ ضوابط نافذ کیے جانے پر مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ کیوبیک میں ان دنوں اس بات پر مباحثہ جاری ہے کہ مقامی معاشرے میں تارکین وطن کی شمولیت کیسے یقینی بنائی جائے۔ ہیروکسوِلے مانٹریال کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر پر واقع ہے جہاں کی آبادی تیرہ سو افراد پر مشتمل ہے لیکن ان میں ایک ہی خاندان تارکین وطن کا ہے۔ ہیروکسوِلے کی انتظامیہ کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ’ہم ان نئے آنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ جس طرز زندگی کو وہ اپنے ملکوں میں چھوڑکر یہاں آئے ہیں اس کو یہاں نہیں اپنایا جاسکتا۔‘ ’عورتوں کو پتھر مارکر ہلاک کرنے، انہیں زندہ جلانے، ختنہ کرنے، ان پر تیزاب پھینکنے۔۔۔کو ہم اپنے معیار زندگی سے بعید سمجھتے ہیں۔‘ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عورتوں کو ووٹ دینے، گاڑی چلانے، ڈانس کرنے، مکان کی ملکیت اختیار کرنے کا حق ہے۔
ان ضوابط کے خالق کونسلر آندرے ڈریوِن نے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ یہ ضوابط نسل پرستانہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہم تمام قومیتوں، زبانوں، جنسی روش، وغیرہ کے لوگوں کو یہاں آکر ہمارے ساتھ رہنے کی دعوت دیتے ہیں لیکن انہیں وقت سے پہلے بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کیسے رہتے ہیں۔‘ کونسلر آندرے ڈریوِن کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں معاشرے کی تفریق سے متعلق کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن کی روشنی میں نئے ضوابط کی ضرورت پیدا ہوئی۔ ایک ایسے ہی واقعے میں ٹورانٹو کے ایک جج نے حکم دیا کہ عدالت کی عمارت سے کرِسمس ٹری ہٹایا جائے کیوں کہ غیرمسیحی لوگوں کے جذبات مشتعل ہوسکتے ہیں۔ ایک دوسرے واقعے میں مانٹریال کے جِم (ورزِش گاہ) کے مالک کو کھڑکیوں میں ایسے شیشے لگانے پڑے جن کے ذریعے باہر سے نہ دیکھا جاسکے کیوں کہ پاس میں یہودیوں کی عبادت گاہ سے منسلک لوگوں کا کہنا تھا کہ نیم ننگے لوگوں کو ورزش کرتے دیکھنے سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اسی ماہ مانٹریال کے ایک اخبار میں شائع ہونے والے رائے شماری کے ایک جائزے کے مطابق انسٹھ فیصد باشندوں نے اعتراف کیا کہ وہ نسل پرستانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں مانٹریال کی پولیس اپنے ایک پولیس افسر کی تحقیقات کررہی ہے جس نے ’بس اتنا کافی ہے‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں تارکین وطن کو کیوبیک کے معاشرے کو خراب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’اللہ میڈ می فنی‘15 June, 2004 | آس پاس غلامانہ حالات میں باون بھارتی مزدور26 May, 2006 | آس پاس غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس کینیڈا: چھاپوں میں سترہ گرفتار03 June, 2006 | آس پاس کینیڈا:مقدمے کی رپورٹنگ پر پابندی 13 June, 2006 | آس پاس یونیورسٹی سائٹ تضاد کی زد میں29 August, 2006 | آس پاس کینیڈا: ’مشتبہ القاعدہ رکن‘ بری20 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||