BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا کے اصول، مسلمان برہم
کسوِلے میں 1300 افراد بستے ہیں
کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں بسنے والے تارکین وطن سے وہاں کی مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ عورتوں کو جلائیں نہیں، پتھر مارکر ہلاک نہ کریں اور نہ لڑکیوں کا ختنہ کریں۔

کیوبیک کے شہر ہیروکسوِلے کی انتظامیہ کی جانب سے یہ ضوابط نافذ کیے جانے پر مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ کیوبیک میں ان دنوں اس بات پر مباحثہ جاری ہے کہ مقامی معاشرے میں تارکین وطن کی شمولیت کیسے یقینی بنائی جائے۔

ہیروکسوِلے مانٹریال کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر پر واقع ہے جہاں کی آبادی تیرہ سو افراد پر مشتمل ہے لیکن ان میں ایک ہی خاندان تارکین وطن کا ہے۔

ہیروکسوِلے کی انتظامیہ کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ’ہم ان نئے آنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ جس طرز زندگی کو وہ اپنے ملکوں میں چھوڑکر یہاں آئے ہیں اس کو یہاں نہیں اپنایا جاسکتا۔‘

’عورتوں کو پتھر مارکر ہلاک کرنے، انہیں زندہ جلانے، ختنہ کرنے، ان پر تیزاب پھینکنے۔۔۔کو ہم اپنے معیار زندگی سے بعید سمجھتے ہیں۔‘

انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عورتوں کو ووٹ دینے، گاڑی چلانے، ڈانس کرنے، مکان کی ملکیت اختیار کرنے کا حق ہے۔

انتظامیہ کے نئے ضوابط
 ہم ان نئے آنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ جس طرز زندگی کو وہ اپنے ملکوں میں چھوڑکر یہاں آئے ہیں اس کو یہاں نہیں اپنایا جاسکتا۔
ان ضوابط کے تحت سِکھ بچوں کو اسکول میں خنجر لے جانے کی اجازت نہیں ہے جسے وہ اپنے مذہب کی علامت سمجھتے ہیں۔ انتظامیہ نے سکھوں کے بارے میں یہ ضوابط کینیڈا کی سپریم کورٹ کی جانب سے اجازت کے باوجود نافذ کی ہے۔

ان ضوابط کے خالق کونسلر آندرے ڈریوِن نے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ یہ ضوابط نسل پرستانہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم تمام قومیتوں، زبانوں، جنسی روش، وغیرہ کے لوگوں کو یہاں آکر ہمارے ساتھ رہنے کی دعوت دیتے ہیں لیکن انہیں وقت سے پہلے بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کیسے رہتے ہیں۔‘

کونسلر آندرے ڈریوِن کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں معاشرے کی تفریق سے متعلق کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن کی روشنی میں نئے ضوابط کی ضرورت پیدا ہوئی۔

ایک ایسے ہی واقعے میں ٹورانٹو کے ایک جج نے حکم دیا کہ عدالت کی عمارت سے کرِسمس ٹری ہٹایا جائے کیوں کہ غیرمسیحی لوگوں کے جذبات مشتعل ہوسکتے ہیں۔

ایک دوسرے واقعے میں مانٹریال کے جِم (ورزِش گاہ) کے مالک کو کھڑکیوں میں ایسے شیشے لگانے پڑے جن کے ذریعے باہر سے نہ دیکھا جاسکے کیوں کہ پاس میں یہودیوں کی عبادت گاہ سے منسلک لوگوں کا کہنا تھا کہ نیم ننگے لوگوں کو ورزش کرتے دیکھنے سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

اسی ماہ مانٹریال کے ایک اخبار میں شائع ہونے والے رائے شماری کے ایک جائزے کے مطابق انسٹھ فیصد باشندوں نے اعتراف کیا کہ وہ نسل پرستانہ رویہ رکھتے ہیں۔

ایسے ہی ایک واقعے میں مانٹریال کی پولیس اپنے ایک پولیس افسر کی تحقیقات کررہی ہے جس نے ’بس اتنا کافی ہے‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں تارکین وطن کو کیوبیک کے معاشرے کو خراب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

مصر کے خالدنیو یارک کے ٹھیلے
دن نکلتے ہی سڑکوں پر ٹھیلے نظر آنے لگتے ہیں
برطانوی تارکین وطن
'ہر برطانوی کوصرف چار پینس فی ہفتے کا فائدہ'
برطانوی پاسپورٹاب ٹیسٹ دینا ہوگا
برطانوی شہریت اب ٹیسٹ کے بعد
فرانسمسلم رہنما: اپیل
سیاست دان تارکین وطن کا لحاظ کریں
دبئی کے مزدوردبئی کے مزدور
دبئی میں مزدوروں کی زندگی بہت مشکل ہے
اسی بارے میں
’اللہ میڈ می فنی‘
15 June, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد