BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 22:14 GMT 03:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غلامانہ حالات میں باون بھارتی مزدور

غلامی سے متعلق اس مقدمے کی امریکہ میں سیاسی اہمیت ہے
امریکہ میں ایک جج نے باون بھارتی ملازمین کو غلامی نما حالات میں کام کرنے پر بارہ لاکھ ڈالر ہرجانے کا حکم دیا ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے انہیں بھارت سے امریکہ لا کر اپنی فیکٹری میں بند کر رکھا تھا اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

یہ مقدمہ سیاسی اہمیت کا ہے کیوں کہ امریکہ میں غلامی کا قانونی طور پر خاتمہ کردیا گیا ہے۔ بھارت سے بلائے گئے ان باون ملازمین کو ریاست اوکلاہوما کے شہر ٹلسا میں نہایت غیرانسانی حالات میں رکھا جاتا تھا۔

تیل کے کارخانوں کا ساز و سامان بنانے والی ’جان پکل‘ کمپنی نے ان ملازمین پر چھٹی کے اوقات میں بھی فیکٹری کی حدود سے باہر جانے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ انہیں ایک ہی بڑے کمرے میں بستر دے رکھے تھے اور جج کلیئر ایگن کے مطابق ان کے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام فیکٹری کے امریکی ملازمین سے الگ کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ مینیجمنٹ کا سلوک ان کے ساتھ نہایت ناروا تھا۔ان سے اکثر بدتمیزی سے بات کی جاتی تھی اور ان کے ملک اور ثقافت کے متعلق نامناسب زبان استعمال کی جاتی تھی۔ ان کی روزانہ کی تنخواہ تین ڈالر سے بھی کم تھی۔

چار سال پہلے یہ بھارتی ملازمین فیکٹری چھوڑ کر چلے گئے اور کمپنی کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔ علاقے کے ایک پینٹیکوسٹل چرچ کے ارکان نے ان کی مدد کی۔

مقدمہ دائر ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد جان پکل کمپنی بند ہوگئی۔ کمپنی نے مقدمہ دائر ہونے سے اب تک ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بھارتی ملازمین کے وکلاء نے جج سے کمپنی کے خلاف پچاس لاکھ سے زائد ہرجانے کی درخواست کی تھی۔ وکیل کین فیلٹی کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے پوری طرح خوش نہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے کسی مقدمے میں یہ پہلا فیصلہ ہے جس میں دس لاکھ ڈالر سے زائد رقم ادا کی جائے گی۔

کین فیلٹی کے مطابق یہ ’بات پیسے کی نہیں بلکہ یہ ہے کہ دوبارہ کسی کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ ہو۔‘

بارہ لاکھ ڈالر کی اس رقم کو جب برابر ان بھارتی ملازمین میں تقسیم کیا جائے گا تو ہر ایک کے حصے میں صرف بیس ہزار ڈالر کے قریب آئیں گے۔ یہ لوگ اب امریکہ ہی کی مختلف ریاستوں میں کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
بکتے جسم، بکھرتے خواب اور خوف
04 November, 2004 | قلم اور کالم
عہدِ غلامی پر شرمندہ
21 January, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد