نسل پرست مخالف تحریک کی سالگرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کے لوگ تیس سال قبل سوویٹو میں طالب علموں کی جانب سے ملک میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف نسلی امتیاز کی پالیسی ’اپارتھیڈ‘ کے احتجاج میں شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی یاد منارہے ہیں۔ صدر تھابو ایمبیکی نے ایک ریلی کی قیادت کی جو اسی راستے پر نکالی گئی جس پر سولہ جون انیس سو چھہتر کو سیاہ فام طالب علموں نے اس قانون کے خلاف مارچ کیا تھا جس کے تحت انہیں افریکانز زبان پڑھنی پڑتی تھی۔ سوویٹو میں اس یادگاری مقام پر عقیدت کے پھول پیش کیئےگئے جہاں اس مارچ کے دوران پولیس کی فائرنگ میں متعدد ٹینیجر ہلاک ہوگئے تھے۔ اس پولیس فائرنگ کے بعد بھڑک اٹھنے والے احتجاج کے دوران سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔ آج کی یادگاری تقاریب میں لوگوں کی توجہ ہیکٹر پیٹرسن نامی اس لڑکے پر رہی جو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والا پہلا اور سب سے کم عمر طالب علم تھا۔ ہیکٹر پیٹرسن کی تصویر اس وقت کیمرے کی گرفت میں آگئی جب وہ اپنے ایک ساتھی طالب علم کی بانہوں میں دم توڑ رہا تھا۔ جلد ہی یہ تصویر جنوبی افریقہ میں سفیدفام اقلیت کی حکمرانی کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گئی۔ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں اس کی ماں ڈوروتھی مولیفی اور صدر تھابو ایمبیکی نے اس کی یاد میں پھولوں کے گلدستے پیش کیئے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں سیاسی استحکام کو ’غیرانسانی غربت‘ سے ایک خطرہ لاحق ہے۔ ’اگر ہم اس کے بارے میں جلد ہی کچھ نہیں کرتے تو ہمارا ساا کیا دھرا دھواں بن کر نیست و نابود ہوجائےگا۔‘ سوویٹو میں پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے طالب علموں کی ریلی کی گزرگاہ سرخ پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے جو وہاں بہنے والے خون کی علامت ہے۔ اس راستے پر نکالی جانے والی یادگاری ریلی میں شامل افراد جہانسبرگ کے ایف این بی سٹیڈیم تک جائیں گے جہاں صدر تھابو ایمبیکی ان سے خطاب کریں گے۔ سوویٹو سے شروع ہونے والی بغاوت دوسرے شہروں تک پھیل گئی تھی اور اسے جنوبی افریقہ سے نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے کی مہم میں تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس میں پچانوے سیاہ فام لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن غیرسرکاری اندازوں کے مطابق پانچ سو افراد مارے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’منڈیلا کےخط مل گئے‘06 December, 2004 | آس پاس مہاتما گاندھی کی توہین پر احتجاج22 March, 2005 | آس پاس ساؤتھ افریقہ: قانونی تاریخ کاانوکھا کیس 11 June, 2005 | آس پاس افریقہ: سفیدفاموں سے زمینوں کی واپسی23 September, 2005 | آس پاس ’کھلاڑی نسلی زیادتی کانشانہ بنے‘22 March, 2006 | کھیل زمبابوے کرکٹ، تعصب سے پاک17 October, 2004 | کھیل غلامانہ حالات میں باون بھارتی مزدور26 May, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||