BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسل پرست مخالف تحریک کی سالگرہ
ہیکٹر پیٹرسن پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والا سب سے کم عمر اور پہلا طالب علم تھا
جنوبی افریقہ کے لوگ تیس سال قبل سوویٹو میں طالب علموں کی جانب سے ملک میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف نسلی امتیاز کی پالیسی ’اپارتھیڈ‘ کے احتجاج میں شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی یاد منارہے ہیں۔

صدر تھابو ایمبیکی نے ایک ریلی کی قیادت کی جو اسی راستے پر نکالی گئی جس پر سولہ جون انیس سو چھہتر کو سیاہ فام طالب علموں نے اس قانون کے خلاف مارچ کیا تھا جس کے تحت انہیں افریکانز زبان پڑھنی پڑتی تھی۔

سوویٹو میں اس یادگاری مقام پر عقیدت کے پھول پیش کیئےگئے جہاں اس مارچ کے دوران پولیس کی فائرنگ میں متعدد ٹینیجر ہلاک ہوگئے تھے۔ اس پولیس فائرنگ کے بعد بھڑک اٹھنے والے احتجاج کے دوران سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔

آج کی یادگاری تقاریب میں لوگوں کی توجہ ہیکٹر پیٹرسن نامی اس لڑکے پر رہی جو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والا پہلا اور سب سے کم عمر طالب علم تھا۔ ہیکٹر پیٹرسن کی تصویر اس وقت کیمرے کی گرفت میں آگئی جب وہ اپنے ایک ساتھی طالب علم کی بانہوں میں دم توڑ رہا تھا۔

جلد ہی یہ تصویر جنوبی افریقہ میں سفیدفام اقلیت کی حکمرانی کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گئی۔ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں اس کی ماں ڈوروتھی مولیفی اور صدر تھابو ایمبیکی نے اس کی یاد میں پھولوں کے گلدستے پیش کیئے۔

غربت سے استحکام کو خطرہ
 جنوبی افریقہ میں سیاسی استحکام کو ’غیرانسانی غربت‘ سے ایک خطرہ لاحق ہے۔ اگر ہم اس کے بارے میں جلد ہی کچھ نہیں کرتے تو ہمارا ساا کیا دھرا دھواں بن کر نیست و نابود ہوجائےگا۔
مذہبی رہنما ڈیسمنڈ ٹوٹو
جنوبی افریقہ کے مذہبی رہنما ڈیسمنڈ ٹوٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے کے بعد سے ملک میں سفید فام اور سیاہ فام لوگوں کے درمیان تفریق کی کوئی پالیسی نہیں اپنائی گئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں سیاسی استحکام کو ’غیرانسانی غربت‘ سے ایک خطرہ لاحق ہے۔ ’اگر ہم اس کے بارے میں جلد ہی کچھ نہیں کرتے تو ہمارا ساا کیا دھرا دھواں بن کر نیست و نابود ہوجائےگا۔‘

سوویٹو میں پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے طالب علموں کی ریلی کی گزرگاہ سرخ پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے جو وہاں بہنے والے خون کی علامت ہے۔

اس راستے پر نکالی جانے والی یادگاری ریلی میں شامل افراد جہانسبرگ کے ایف این بی سٹیڈیم تک جائیں گے جہاں صدر تھابو ایمبیکی ان سے خطاب کریں گے۔

سوویٹو سے شروع ہونے والی بغاوت دوسرے شہروں تک پھیل گئی تھی اور اسے جنوبی افریقہ سے نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے کی مہم میں تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس میں پچانوے سیاہ فام لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن غیرسرکاری اندازوں کے مطابق پانچ سو افراد مارے گئے تھے۔

پیاسہ افریقہپیاسا افریقہ
پیاسا افریقہ بھوک کا شکار ہوجائے گا؟
تاریخ کا نیا موڑ
جنوبی افریقہ،سفید فاموں سے زمینوں کی واپسی
مانچسٹر پولیسنسل پرست پولیس
برطانوی پولیس میں نسل پرستی بےنقاب
ایمنسٹی رپورٹ
روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز : رپورٹ
کون کتنے پانی میں
پانچ منٹ میں نسل پرستی کا آن لائن ٹیسٹ
اسی بارے میں
’منڈیلا کےخط مل گئے‘
06 December, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد