زمبابوے کرکٹ، تعصب سے پاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے زمبابوے کی کرکٹ یونین کو نسلی تعصب کے مبینہ الزامات سے بری کردیا ہے۔ آئی سی سی کے صدر احسان مانی نے اتوار کو لاہور میں آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ آئی سی سی نے ان الزامات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جو دو رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی اس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ ان کے مطابق اس رپورٹ میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ زمبابوے کرکٹ یونین میں کسی قسم کا نسلی امتیاز موجود نہیں ہے تاہم احسان مانی نے یہ بھی واضح کردیا کہ نسلی تعصب کے بارے میں تحقیقات اور زمبابوے کی ٹیسٹ رکنیت دو مختلف معاملات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورۂ بنگلہ دیش کے بعد زمبابوے کی ٹیسٹ رکنیت بحال ہوجائے گی۔ آئی سی سی نے اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ سلیکٹرز کو بھی ضابطۂ اخلاق میں شامل کیا جائے۔ یہ فیصلہ پاکستانی چیف سلیکٹر وسیم باری کی جانب سے انگریز امپائر ڈیوڈ شیپرڈ کے خلاف بیان دینے کے بعد کیا گیا ہے۔ وسیم باری نے ہالینڈ کے ٹورنامنٹ میں شیپرڈ کے فیصلوں پر تنقید کی تھی۔ احسان مانی اور میلکم اسپیڈ نے کہا کہ امپائرز کی کارکردگی کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لیا جاتا ہے اور یہ تاثر درست نہیں ہے کہ امپائرز پر آئی سی سی کی گرفت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آٹھ امپائرز ایلیٹ پینل میں شامل ہیں اور ان کی کارکردگی کو پرکھنے کا طریقۂ کار موجود ہے۔ آئی سی سی نے میچ فکسنگ میں تاحیات پابندی کی زد میں آئے ہوئے کرکٹرز کو کسی بھی ٹورنامنٹ کے ایکریڈیشن کارڈ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایشیا کپ میں بھارت کے سابق کپتان اظہرالدین ایک بھارتی ٹی وی چینل کی کوریج کے لئے کولمبو گئے تھے جس پر آئی سی سی نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ آئی سی سی نے ٹیسٹ ٹیموں کے مصروف شیڈول کے بارے میں فیصلہ اگلے اجلاس تک مؤخر کردیا ہے اور یہ معاملہ کرکٹ بورڈز کے حوالے کردیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||