BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 23:36 GMT 04:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کٹھمنڈو میں دن بھر کا کرفیو نافذ

مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھٹمنڈو کی سڑکوں پر نکل آئے
نیپالی دارالحکومت کٹھمنڈو میں شاہی محل پر مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ہیں اور ربڑ کی گولیاں چلائی ہیں جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

اتوار کی صبح سے نیپالی حکام نے کٹھمنڈو میں پھر سے دن بھر کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔

سنیچر کو ایک لاکھ سے زائد مظاہرین نے دارالحکومت کے مرکز میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بادشاہت کے خلاف احتجاج کیا اور سیاسی اپوزیشن نے شاہ گیانندرا کی جانب سے ایک کثیرالجماعتی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔

زخمیوں کو امدادی کارکنوں نےہسپتال پہنچایا ہے۔ سنیچر کے روز نیپال میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مشتعل مظاہرین محل میں داخل ہونا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں نیپالی پولیس ربڑ کی گولیاں چلانی پڑیں۔ دارالحکومت کٹھمنڈو میں کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق شہر کے تھپاتھلی علاقے میں واقع ایک ہسپتال زخمیوں سے بھرا ہوا تھا جو علاج کے لیے لائے گئے تھے۔ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں اب تک چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ہفتے کی صبح ہزاروں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھٹمنڈو کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ مظاہرین’ ہم بادشاہت نہیں جمہوریت چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین شاہی محل پر مارچ کرنا چاہتے تھے
اس سے قبل نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے انہیں حکومت میں شامل کرنے کی ملک کے بادشاہ شاہ گیانندرا کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ شاہ گیانندرا نے دو ہفتوں سے جاری بادشاہت مخالف مظاہروں کے ردعمل میں یہ پیشکش کی تھی۔

سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد میں شامل اہم جماعت نیپالی کانگریس نے کہا کہ شاہ گیانندرا نے اپنی پیشکش کرتے وقت ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا ہے۔ مظاہرین نے بھی ملک کے بادشاہ کی پیشکش پر کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔

جمہوریت نواز مظاہروں پر بائیں بازو کے ماؤنواز باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور حزب اختلاف کی جماعت کے ایک کارکن نے کہا کہ وہ آئینی حقوق کی خاطر بادشاہ کے پاس نہیں جانا چاہتے۔

جمعہ کے روز قوم سے خطاب میں شاہ گیانندر نے کہا تھا کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے کسی رہنما کو نامزد کریں۔ انہوں نے ملک میں انتخابات کا اعلان نہیں کیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جمہوریت حامی تحریک نے گزشتہ چند دنوں میں بادشاہت مخالف شکل اختیار کرلی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے کہا کہ ملک کے بادشاہ نے ان کے کئی اہم مطالبات پر کوئی بات ہی نہیں کی۔ ان جماعتوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہ گیانندرا ایک اسمبلی نامزد کریں جو ملک میں بادشاہت کے مستقبل پر غور کرے گی۔

نیپال میں مظاہرے
بادشاہ نہیں، جمہور
کھٹمنڈومظاہرے: بی بی سی کےنامہ نگارنےدیکھا؟
نیپالرائے دیں
نیپال میں جمہوریت کے لیے تحریک
گیانیندراقتدار کی رساکشی
نیپال کی شاہی تاریخ پر ایک نظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد