کٹھمنڈو میں دن بھر کا کرفیو نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپالی دارالحکومت کٹھمنڈو میں شاہی محل پر مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ہیں اور ربڑ کی گولیاں چلائی ہیں جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ اتوار کی صبح سے نیپالی حکام نے کٹھمنڈو میں پھر سے دن بھر کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔ سنیچر کو ایک لاکھ سے زائد مظاہرین نے دارالحکومت کے مرکز میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بادشاہت کے خلاف احتجاج کیا اور سیاسی اپوزیشن نے شاہ گیانندرا کی جانب سے ایک کثیرالجماعتی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔ زخمیوں کو امدادی کارکنوں نےہسپتال پہنچایا ہے۔ سنیچر کے روز نیپال میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مشتعل مظاہرین محل میں داخل ہونا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں نیپالی پولیس ربڑ کی گولیاں چلانی پڑیں۔ دارالحکومت کٹھمنڈو میں کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق شہر کے تھپاتھلی علاقے میں واقع ایک ہسپتال زخمیوں سے بھرا ہوا تھا جو علاج کے لیے لائے گئے تھے۔ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں اب تک چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہفتے کی صبح ہزاروں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھٹمنڈو کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ مظاہرین’ ہم بادشاہت نہیں جمہوریت چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد میں شامل اہم جماعت نیپالی کانگریس نے کہا کہ شاہ گیانندرا نے اپنی پیشکش کرتے وقت ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا ہے۔ مظاہرین نے بھی ملک کے بادشاہ کی پیشکش پر کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔ جمہوریت نواز مظاہروں پر بائیں بازو کے ماؤنواز باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور حزب اختلاف کی جماعت کے ایک کارکن نے کہا کہ وہ آئینی حقوق کی خاطر بادشاہ کے پاس نہیں جانا چاہتے۔ جمعہ کے روز قوم سے خطاب میں شاہ گیانندر نے کہا تھا کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے کسی رہنما کو نامزد کریں۔ انہوں نے ملک میں انتخابات کا اعلان نہیں کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جمہوریت حامی تحریک نے گزشتہ چند دنوں میں بادشاہت مخالف شکل اختیار کرلی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے کہا کہ ملک کے بادشاہ نے ان کے کئی اہم مطالبات پر کوئی بات ہی نہیں کی۔ ان جماعتوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہ گیانندرا ایک اسمبلی نامزد کریں جو ملک میں بادشاہت کے مستقبل پر غور کرے گی۔ |
اسی بارے میں نیپال: کرفیو ٹوٹ گیا، تین ہلاک20 April, 2006 | آس پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم19 April, 2006 | آس پاس نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس ماؤ باغیوں کے حملے، 24 ہلاک 06 April, 2006 | آس پاس نیپال: ہڑتال جاری، ڈیڑھ سوگرفتار07 April, 2006 | آس پاس نیپال: کرفیو میں توسیع کر دی گئی09 April, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||