ایران: یورپی تجاویز مسترد کردیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے یورپی یونین کی نئی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ فلیپ دوست بلازی کے اس بیان کے مطابق ’یہ تجاویز ظاہر ہے کہ ایک پرامن جوہری پروگرام کے لیے ہیں۔ ایران کو ایک پرامن پروگرام سے روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہم تو پرامن جوہری پروگرام کے سلسلے میں ایران کی حمایت کریں گے بشرطیکہ جوہری ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ نہ کیا جائے‘ اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی، آئی اے ای اے، نے اس سے پہلے ہی ایران کے مسئلے پر منگل کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ ایران نے کہا تھا کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز پر جلد از جلد اپنا رد عمل ظاہر کرے گا لیکن اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ یورپی یونین کی ترغیابات کافی نہیں ہیں۔ اسکے علاوہ ان تجاویز میں طویل المعیاد تجارتی معاہدے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجے نے کہا تھا کہ ’ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات استوار کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ایسا عالمی تجارتی تنظیم کے دائرہ کار میں رہ کر کیا جا سکتا ہے‘۔ ان تجاویز میں ٹیکنالوجی کے سلسلے میں تعاون کے معاہدے بھی شامل ہیں اور آخر میں سیاسی اور ایران کی سکیورٹی کے معاملات کے حوالے سے تجاویز ہیں۔ ’ہم ایران کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں‘۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ان تجاویز کے ذریعے ایران کو ایک ایسا جوہری پروگرام رکھنے سے روکا جائے گا جس میں وہ جوہری توانائی کی پیداوار کو ہر قدم پر کنٹرول کر سکے یا پوشیدہ رکھ سکے۔
اخبار کے مطابق تجاویز یہ ہیں کہ تہران کو جوہری ایندھن حاصل کرنے کی اجازت دے جائے اور پھر استعمال شدہ ایندھن کسی دوسرے ملک بھیج دیا جائے تاکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال نہ ہوسکے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کو خطے کی سکیورٹی کے معاملات خصوصاً عراق اور افغانستان میں ایران کو کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد ان تجاویز پر اپنا رد عمل ظاہر کرے گا۔ لیکن ایسے اشارے ملے ہیں کہ یہ ترغیبات کافی نہیں ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی نے بھی اس مسئلے پر بات چیت کے لیے منگل کو ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس ہفتے یورینئیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دے گا لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ جب تک ان تجاویر پر بات چیت جاری ہے ایران یورینئیم کی افزودگی کا عمل ملتوی رکھے گا۔ یورپی یونین نے کہا تھا کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کی تو یہ مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||