جوہری کارکن اٹھارہ برس بعد رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی حکومت نے ان پابندیوں کا اعلان کیا ہے جو جوہری راز افشاء کرنے کے الزام میں سزا پانے والے جوہری کارکن مردوخائی ونونو پر رہائی کے بعد عائد ہوں گی۔ مردوخائی ونونوبدھ کے روز اٹھارہ برس کی قید کاٹ کر رہا ہوجائیں گے۔ مردوخائی ونونو کو اسرائیل کے مبینہ جوہری راز ایک برطانوی اخبار پر افشاء کرنے کے الزام میں اٹھارہ برس کی سزا دی گئی تھی جس میں سے آدھی سے زیادہ قید تنہائی تھی۔ ان کی رہائی سے قبل جوہری ہتھیاروں کے خلاف مہم چلانے والے کارکن جیل کے باہر جمع تھے تاکہ مردوخائی کا گرمجوشی سے استقبال کیا جاسکے۔ ان پابندیوں میں ان پر ملک چھوڑنے کی پابندی بھی شامل ہے۔ یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیوس کے مطابق گو مردوخائی ونونو اپنے حامیوں پر ایک ٹیپ شدہ پیغام میں یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ وہ رہائی کے بعد اسرائیل چھوڑ دینا چاہتے ہیں لیکن ان پابندیوں کی اطلاعات نے دنیا کے اس انتہائی متنازعہ لیکن معروف قیدی کو خاصا ناراض کردیا ہے۔ اننچاس برس کے مردوخائی ونونو کو کہا گیا ہے کہ وہ بلا اجازت غیرملکیوں سے بات نہیں کرسکتے اور نہ ہی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے نزدیک جاسکتے ہیں جبکہ ان کو اپنی نقل و حرکت اور رہائش سے بھی حکام کو قبل از وقت مطلع کرنا ہوگا۔ حکومت کے مطابق وہ اس سے سخت پابندیاں بھی عائد کرسکتی تھی جبکہ موجودہ پابندیوں کی مدت کا انحصار بھی مردوخائی ونونو کے آئندہ طرزعمل پر ہوگا۔مردوخائی ونونو کے حامی انہیں ایک ایسا شخص سمجھتے ہیں جس نے جوہری اسلحے پر اپنے نظریات کی پاداش میں اپنی زندگی کے بہترین سال قربان کردیے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت اور خفیہ ادارے واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ مردوخائی ونونو اب بھی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔ درحقیقت تازہ پابندیوں کے ذریعے حکومت نے یہ بات بھی ظاہر کی ہے کہ اس کے خیال میں مردوخائی ونونو کے پاس اب بھی قومی راز ہیں جن کو وہ افشاء کرسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||