 |  آئین کی توثیق کی حتمی تاریخ اب بڑھا دی گئی ہے |
یورپی یونین کے رہنما اس پر متفق ہو گئے ہیں کہ یونین کے نئے آئین کی توثیق کا عمل فی الحال روک دیا جائے۔ بلجئیم کے شہر برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ فرانس اور ہالینڈ میں ہونے والے ریفرنڈم میں اس آئین کو رد کر دیا گیا تھا۔ ان دو ممالک میں یورپی آئین کے خلاف ووٹوں سے یورپی یونین میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور مستقبل میں یورپی یونین کی شکل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس آئین کی توثیق کی حتمی تاریخ اب بڑھا دی گئی ہے پہلے یہ توثیق نومبر 2006 تک ہونی تھی۔
یورپی کمیشن کے صدر ہوزے مینوئل بروسو کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کی بات سنی جائے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یورپی آئین کے مستقبل سے ابھی نا امید ہونے کی ضرورت نہیں۔جنہوں نے کہا ہے کہ ’فی الحال ضرورت ہے کہ سوچ بچار کے لیے وقت دیا جائے اور اس کے بعد آئین کی توثیق ہو لیکن خیال رہے کہ یورپ رکے گا نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ جو ہوا اس پر سوچنے کے لیے ہم کچھ وقت دیں گے لیکن پھر ہم عمل جاری رکھیں گے۔ ہم لوگوں کی بات سنیں گے۔ یہ ہمارا پلان ڈی ہے۔ ڈی سے ڈیموکریسی، ڈیبیٹ اور ڈائیلاگ یعنی جمہوریت ، بحث اور بات چیت۔‘ تاہم ان کے اس نقطہ نظر سے سب رہنما متفق نہیں اور برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کا کہنا ہے۔ ’اگر یہ فیصلہ ہو ہی گیا ہے کہ توثیق کا عمل فی الحال روکا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جن ممالک میں اب تک اس آئین کی توثیق نہیں ہوئی ان میں سے زیادہ تر ممالک میں اس پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ اور جوں جوں وقت گزرے گا اس آئین پر نظر ثانی کرنے کا موقع کم سے کم ہوتا جائے گا‘۔ اکثر یورپی رہنما جیک سٹرا کے اس نقطہ نظر سے متفق ہیں کیونکہ ان کی نظر میں تو فرانس اور ہالینڈ کے ریفرنڈم میں آئین کو رد کرنے کے بعد یہ آئین اپنی موت آپ مر چکا ہے کیونکہ اس کی منظوری کے لیے تمام رکن ممالک کی توثیق ضروری ہے۔ |