ہسپانیہ : یورپی آئین پر ریفرنڈم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہسپانیہ کے عوام اتوار کو یورپی یونین کے پہلے آئین پر ہونے والے ایک ریفرنڈم میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہسپانیہ کی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں اس آئین کے حق میں ہیں اور امید ہے کہ عوام کی اکثریت ’ہاں‘ میں جواب دے گی۔ یہ ریفرنڈم یورپی یونین کے گیارہ ممالک میں ہونے والے ریفرنڈموں کی پہلی کڑی ہے۔ جمعہ کو ختم ہونے والی ریفرنڈم کی مہم کے سلسلے میں ہسپانیہ کے وزیرِاعظم رودریگوئز زیپاتیرو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ریفرنڈم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہسپانیہ کے وزیرِاعظم نے عوام سے کہا کہ یہ آئین منظور کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ 1978 میں جنرل فرانکو کے بعد سپین کے اپنے آئین کی منظوری تھی۔ ہسپانیہ کی حکومت نے عوام کو ووٹ ڈالنے پر مائل کرنے کے لیے فنکاروں اور کھلاڑیوں کا بھی سہارا لیا ہے۔ ہسپانیہ میں قریباً ساڑھے تین کروڑ افراد حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ وزیرِاعظم زیپاتیرو کی سوشلسٹ حکومت کو امید ہے کہ اس ریفرنڈم کی کامیابی دیگر یورپی اقوام کے لیے ایک مثال بنے گی۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ حکومت کی مہم کے باوجود سپین میں چالیس سے پچاس فیصد ووٹ ڈلنے کی امید ہے۔ ہسپانوی عوام میں چند افراد ہی ایسے ہیں جنہوں نے یورپی یونین کے آئین کی 448 شقوں کا مطالعہ کیا ہے اور سپین کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی کا کہنا ہے کہ وہ اس آئین کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ ریفرنڈم میں عوام کے لیے ووٹ ڈالنے لازمی نہیں ہے اور ہسپانوی پارلیمان ہی اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||