BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 March, 2009, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات ابھی تک طالبان کے قبضے میں

سوات
کئی دن پہلے ڈسٹرکٹ آفسر ایف سی کو بھی اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ طالبان نے مبینہ طور پر اغواء کیا جنہیں چوبیس گھنٹے بعد رہا کردیا گیا

سوات میں حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کی توسط سے طالبان کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ سولہ روز گزرنے کے باوجود بھی کچے دھاگے کے ساتھ بندھا ہوا ہے اور اب بھی اسّی فیصد سے زائد علاقے پر طالبان کی عملداری بدستور برقرار ہے۔

سولہ فروی کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد دونوں جانب سے مستقل جنگ بندی کا اعلان تو ہوا لیکن اس دوران کئی ایسے واقعات رونماء ہوئے ہیں جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بندی عملی نہیں بلکہ صرف زبانی ہی ہوئی ہے۔

طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے جنگ بندی کے اعلان کے وقت اپنے مسلح ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلحے کی نمائش، سکیورٹی فورسز پر حملے اور اہلکاروں کو اغواء نہ کریں۔

لیکن عملاً ہوا کیا؟ اگلے ہی دن مینگورہ کی نواح میں واقع طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے قمبر کے علاقے سے سوات کے ضلع رابطہ آفسر خوشحال خان کو طالبان نے اغواء کیا اور دو ساتھیوں کی رہائی کے بدلے میں انہیں واپس چھوڑ دیا۔

دو دن پہلے ڈسٹرکٹ آفسر ایف سی کو بھی اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ طالبان نے مبینہ طور پر اغوا کیا جنہیں چوبیس گھنٹے بعد رہا کردیا گیا۔ لیکن اس سے بھی بڑا واقعہ منگل کو پیش آیا جس نے فریقین کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کو غیر اعلانیہ طور پر توڑ دیا۔

سکیورٹی فورسز کا قافلہ تحصیل مٹہ رونیال کے علاقے میں بقول فوجی حکام پانی لانے جارہا تھا کہ مسلح طالبان نے اس پر حملہ کردیا جس کے بعد جھڑپ شروع ہوئی۔ اس جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ اور منگل کو ہی مینگورہ کے قمر سے اینٹی کرپشن آفسر یامین خان کو اغواء کیا گیا جنہیں بھی بعد میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

طالبان کا موقف ہے کہ سکیورٹی فورسز ان کے اجازت کے بغیر ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں طالبان کی اپنی ایک ریاست ہے اور وہ اپنی ریاست کے اندر کسی دوسری ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیک پوسٹیں ختم نہیں کی ہیں۔

طالبان کا موقف ہے کہ سکیورٹی فورسز ان کے اجازت کے بغیر ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں

مقامی لوگ طالبان کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔اب بھی فضاء گٹ، خوازہ خیلہ ، کانجو ایوب برج ، کوزہ بانڈہ ، کانجو، مریم پل اور ننگولئی میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں قائم ہیں جن میں سے بعض کے ختم ہونے کا حکومت نے اعلان بھی کیا تھا۔

فوجی کاروائی کے دوران طالبان کو سوات کے جن علاقوں پر کنٹرول حاصل تھا وہاں اب بھی ان کی عملداری ہے۔ صدر مقام مینگورہ کے وسطی علاقے پر سکیورٹی فورسز کا قبضہ ہے جبکہ باقی مینگورہ کے مضافاتی علاقوں طاہر آباد، قمبر، تختہ بند، ملوک آباد میں طالبان کا گشت معمول کے مطابق جاری و ساری ہے۔ تحصیل مٹہ، کبل،خوازہ خیلہ اور چہارباغ وہ وسیع علاقے ہیں جہاں پر طالبان کا ویسا ہی کنٹرول ہے جیسے پہلے تھا۔

ان علاقوں میں اب بھی مقامی لوگوں کے مطابق طالبان لوگوں کو کوڑوں کی سزائیں دے رہے ہیں۔خود طالبان ترجمان مسلم خان نے چند دن قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے پانچ ساتھیوں کو اس بات پر سزا دی ہے کہ وہ لوگوں کے بال کاٹ رہے تھے۔ لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

تحصیل کبل کے ٹال میں اے این پی کے مقامی رہنما ملک احمد، مانجہ کلاگئی میں خورشید خان اور الیاس خان کے بھائی کے گھروں کو نقاب پوشوں نے مکمل طور پر لوٹ لیا ہے البتہ اس بارے میں یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ کیا یہ کارروائیاں طالبان نے کی ہیں یا اس میں کوئی اور گروہ ملوث ہے۔

صوبائی حکومت طالبان سےنمٹنے کے لیے صرف ایک ہی شخص مولانا صوفی محمد پر تکیہ کیے بیٹھی ہے

فضاء گٹ میں واقع زمرد کے کان میں غیر قانونی کانکنی طالبان کے زیرسایہ آج بھی جاری ہے جبکہ مدین، مالم جبہ ، منگلور اور آس پاس کے علاقوں میں مبینہ ٹمبر مافیا اب بھی طالبان کی اجازت سے جنگلات کی کٹائی میں مبینہ طور پر مصروف ہیں۔

صوبائی حکومت طالبان سےنمٹنے کے لیے صرف ایک ہی شخص مولانا صوفی محمد پر تکیہ کیے بیٹھی ہے لیکن اب ان کے لب و لہجہ میں بھی غصہ اتر آیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو دھمکی دی ہےاگر وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرتی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے’ طالبان کے علاقوں‘ میں نقل و حمل جاری رہتی ہے تو وہ امن معاہدے سے دستبرادر ہوجائیں گے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ امن معاہدے کے بعد حکومت نے دفاعی اور طالبان نے جارحانہ انداز اپنا یا ہوا ہے۔ طالبان کی کوشش ہے کہ وہ حکومت پر اتنا دباؤ ڈال دیں کہ وہ اپنے گرفتار شدہ ساتھیوں کو رہا کروائیں اور ساتھ میں حکومت کو انہیں عام معافی دینے پر بھی مجبو کر دے تاکہ اگر کل کلاں شرعی عدالتیں لگتی ہیں تو کوئی متاثرہ شخص انکی قیادت کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرسکے گا۔

’دشمن ایجنسیاں‘
’قبائلی علاقوں اور سوات میں دشمن ایجنسیاں‘
سواتی لڑکاسوات میں امن
وادی میں لوگوں کو جیسے نئی زندگی مِل گئی
فوجی اہلکارنیا سوات کیسا ہے
طالبان ریاست اور اہلکار باغی لگتے ہیں
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا مینگورہ میں ’امن مارچ‘ جاری
سواتفوجی کارروائی پر
سوات میں شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
اسی بارے میں
معاہدے کے بعد سوات کا سفر
03 March, 2009 | پاکستان
سوات:قوم کی پشت پناہی درکار
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد