BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2009, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:فوج کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایت

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ تمام قیدیوں کو بھی رہا کر دیں گے
پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سرگرم طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے اپنے مسلح ساتھیوں کو اسلحہ کی نمائش نہ کرنے اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس سے قبل منگل کی صبح تحریک طالبان پاکستان نے ضلع بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے فائربندی کا اعلان کرتے ہوئے سات مغوی سکیورٹی اہلکاروں کو بھی رہا کر دیا تھا۔

منگل کی رات غیر قانونی ایف چینل پر خطاب کے دوران مولانا فضل اللہ نے کہا کہ امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ انہوں نے طالبان کو ہدایت کی کہ وہ اسلحے کی نمائش نہ کریں اور اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اغواء اور قافلوں کو نشانہ نہ بنائیں۔

اپنےخطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت کی طرف سے نظام عدل ریگولیشن کا مکمل نفاذ نہیں ہوجاتا تب تک غیر سرکاری تنظیموں کو علاقے میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے مولانا محمد عالم، انجینئر اور محمود خان پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی کا اعلان بھی کیا جو ان کے بقول حالات پر نظر رکھے گی تاکہ کوئی بھی ان ہدایات سے روگردانی نہ کرے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے جلسوں اور مظاہروں کو سکیورٹی فراہم کیا کریں اور اس کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے نظام عدم ریگولیشن کا نفاذ فی الفور کیا جائے۔

News image
 جب تک حکومت کی طرف سے نظام عدل ریگولیشن کا مکمل نفاذ نہیں ہوجاتا تب تک غیر سرکاری تنظیموں کو علاقے میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔
مولانا فضل اللہ

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کو پہلی مرتبہ مولانا فضل اللہ کی تقریر صدر مقام مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں نہیں سنی گئی البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تحصیل مٹہ اور کبل میں نشریات سنی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم طالبان کی جانب سے غیر معینہ مدت تک جنگ بندی اور مولانا فضل اللہ کے حالیہ ہدایات اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات سمجھے جا رہے ہیں تاہم انہوں نے توقع کے برعکس مستقل طور پر اسلحہ پھینکنے کی بجائے صرف نمائش نہ کرنے کی بات ہے۔

سینیچر کو کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے مستقل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں یہ بھی کہا تھاکہ سوات میں قائم تمام غیر ضروری چوکیوں کو ختم کردیا جائےگا۔ان کے اس اعلان کے بعد سوات سے نقل مکانی کرنے والوں کی اپنی گھروں کو واپسی شروع ہوگئی تھی۔

’دشمن ایجنسیاں‘
’قبائلی علاقوں اور سوات میں دشمن ایجنسیاں‘
فوجی اہلکارنیا سوات کیسا ہے
طالبان ریاست اور اہلکار باغی لگتے ہیں
حکومت کا ایک سال
سوات اور باجوڑ کے مہاجرین مایوس
اسی بارے میں
سوات:قوم کی پشت پناہی درکار
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد