نظام عدل، ’دستخط پانچ منٹ کا کام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے وزیر اعلٰیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ نظام عدل ریگولیشن پر صدر مملِکت کا دستخط کرنا کوئی ایشو ہی نہیں بلکہ یہ محض پانچ منٹ کا کام ہے۔ پیر کو صوبائی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا تھاکہ صدرِ مملکت نے نظام عدل ریگولیشن پر دستخط نہیں کیے ہیں جس کے بعد اس حوالے سےغلط فہمی پیدا ہوگئی تھی۔ وزیر اعلٰی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امیر حیدر خان ہوتی نےمنگل کو چارسدہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدل ریگولیشن پر صدرِ مملکت کی جانب سے دستخط کرنا اتنا بڑا ایشو نہیں ہے اور جب تمام مراحل خوش اسلوبی سے طے ہوجائیں تو دستخط کرنا پھر پانچ منٹ کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالا کنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے اعلان کی خبر سنتے ہی وہاں کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات جلد معمول پر آجائیں گے جس کے بعد ہی عدل ریگولیشن کو نافذ کردیا جائے گا۔ ان کے بقول، پہلے حکومت عملداری قائم ہو اور حالات معمول پر آجائیں تو پھر باقی مسائل پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ | اسی بارے میں صوفی محمد کی مینگورہ آمد17 February, 2009 | پاکستان کہیں طالبان کی حکمرانی لیکن باقی پر۔۔۔16 February, 2009 | پاکستان شرعی عدالتی نظام پر معاہدہ16 February, 2009 | پاکستان صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان16 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||