BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 February, 2009, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘

صوفی محمد مینگورہ سے تحصیل مٹہ جائیں گے
کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد سرحد حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد اپنے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ مینگورہ میں ’امن مارچ‘ کر رہے ہیں۔

مولانا صوفی محمد حکومت کی طرف سے شرعی نظام عدل کے قیام کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر پیکار طالبان سے امن بات چیت کے لیے علاقے میں پہنچے ہیں۔

مولانا صوفی محمد مینگورہ سے تحصیل مٹہ جائیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحصیل مٹہ کے کسی نامعلوم مقام پر مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ سے ملاقات کریں گے۔ مولانا فضل اللہ صوفی محمد کے داماد ہیں۔


مینگورہ میں مولانا صوفی محمد کے سینکڑوں حامی سفید اور کالے جھنڈے اٹھائے خاموش مارچ کر رہے ہیں۔ مولانا صوفی محمد جو اپنے حامیوں کے غول میں ہیں اس مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔

مولانا صوفی محمد کے ساتھیوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال رکھا اور ذرائع ابلاغ کے کسی نمائندے کو ان کے نزدیک نہیں جانے دیا جا رہا ۔ مولانا صوفی محمد تصویر بنوانے سے گریز کرتے ہیں۔
امن مارچ میں شریک کوئی شخص نعرہ نہیں لگا رہا اور نہ ہی اسلحے کی نمائش کر رہا ہے۔

مولانا صوفی محمد کی مینگورہ میں آمد کے بعد وردی میں ملبوس اہلکار کہیں نظر نہیں آتے۔

مولانا صوفی محمد کو جو افغانستان پر امریکی حملے کے وقت اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی مدد کرنےگئے تھے، افغانستان سے واپسی پر پاکستان سرحد پر حراست میں لے لیا گیا تھا اور انہیں کئی سال تک انہیں حراست میں رکھا۔

سرحد حکومت کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے مینگورہ کے سرکٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذ سے علاقے میں امن قائم ہو سکے گا۔

مولانا صوفی محمد کا قافلہ ضلع دیر سے شروع ہوا اور تمیرہ گرہ سے ہوتا ہوا مینگورہ پہنچا ہے۔

مولانا صوفی محمد کی مینگورہ میں آمد کے بعد شہر میں چہل پہل نظر آ رہی ہےاور تمام بازار کھلے ہوئے نظر آئے ہیں۔ لوگوں کو امید ہے کہ اس معاہدے سے مینگورہ کی رونقیں بحال ہو سکیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد