صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے حکومت کی طرف سے شرعی نظام عدل کے قیام کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر بیکار طالبان سے امن بات چیت کےلیے منگل کو سوات جانے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا صوفی محمد نے یہ اعلان پیر کی رات ضلع دیر کے صدر مقام تمیرہ گرہ میں شرعی عدالتی نظام کےلیے گزشتہ چار ماہ سے قائم پرامن احتجاجی کیپمپ کے خاتمے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد حکومت نے ان سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو اپنے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ سوات روانہ ہونگے جہاں وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر بیکار طالبان سے سوات میں امن قائم کرنے کےلیے مذاکرات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ سوات میں مکمل امن ہونے تک وہاں قیام کریں گے۔ مولانا صوفی محمد نے بتایا کہ حکومت نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے لہذا اب سوات کے طالبان کو بھی امن کی کوششوں میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
توقع کی جارہی ہے کہ مولاناصوفی محمد سوات میں سرگرم طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ سے، جو ان کے داماد بھی ہیں ملاقات کرینگے۔ پشاور میں پیر کو تحریک نفاذ شریعت محمدی اور صوبائی حکومت کے مابین مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ نظام عدل پر باقاعدہ عمل درامد سوات میں حکومتی عمل داری کی مکمل بحالی کے بعد کیا جائے گا۔ گزشتہ روز سوات کے طالبان نے حکومت کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذ پر آمادگی ظاہر کرنے پر سوات میں دس دن کےلیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کا سوات کے عوام نے انتہائی گرم جوشی سے خیرمقدم کیا تھا اور لوگوں نے بازاروں میں خوشی میں مٹھائیاں تقسم کی تھیں۔ ادھر بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان نے حکومت کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں نظام عدل کے قیام کا کریڈٹ مولانا صوفی محمد کی بجائے مولانا فضل اللہ کو دینا چاہیے کیونکہ ان کے مطابق اس نظام کے لیے اصل قربانیاں تو فضل اللہ کے ساتھیوں نے دی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن کی طرح حکومت قبائلی علاقوں میں بھی شرعی عدالتی نظام قائم کرے تاکہ وہاں بھی انگریزوں کے زمانے کے کالے قوانیں کا خاتمہ ہوسکے۔ | اسی بارے میں ’لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘ 13 February, 2009 | پاکستان سوات:مارٹرگولہ گرنے سےہلاکتیں14 February, 2009 | پاکستان سوات:’بارہ سو ہلاک،لاکھوں بےگھر‘13 February, 2009 | پاکستان سوات، باجوڑ کے مہاجرین حکومت سے مایوس14 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||