BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2009, 19:24 GMT 00:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان

شریعت نافذ کرنے کا اعلان حکومت اور مولانا صوفی کے ہمراہ جرگے میں کیا گیا
کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے حکومت کی طرف سے شرعی نظام عدل کے قیام کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر بیکار طالبان سے امن بات چیت کےلیے منگل کو سوات جانے کا اعلان کیا ہے۔

مولانا صوفی محمد نے یہ اعلان پیر کی رات ضلع دیر کے صدر مقام تمیرہ گرہ میں شرعی عدالتی نظام کےلیے گزشتہ چار ماہ سے قائم پرامن احتجاجی کیپمپ کے خاتمے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سرحد حکومت نے ان سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کر دیئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو اپنے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ سوات روانہ ہونگے جہاں وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر بیکار طالبان سے سوات میں امن قائم کرنے کےلیے مذاکرات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ سوات میں مکمل امن ہونے تک وہاں قیام کریں گے۔

مولانا صوفی محمد نے بتایا کہ حکومت نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے لہذا اب سوات کے طالبان کو بھی امن کی کوششوں میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

سوات میں مٹھائیاں
 گزشتہ روز سوات کے طالبان نے حکومت کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذ پر آمادگی ظاہر کرنے پر سوات میں دس دن کےلیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کا سوات کے عوام نے انتہائی گرم جوشی سے خیرمقدم کیا تھا اور لوگوں نے بازاروں میں خوشی میں مٹھائیاں تقسم کیں تھیں
تحریک کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے شرعی عدالتی نظام کےلیے جو پرامن احتجاجی کیمپ لگایا تھا اسے حکومت کی طرف سے شرعی نظام کے اعلان کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ مولاناصوفی محمد سوات میں سرگرم طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ سے، جو ان کے داماد بھی ہیں ملاقات کرینگے۔

پشاور میں پیر کو تحریک نفاذ شریعت محمدی اور صوبائی حکومت کے مابین مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ نظام عدل پر باقاعدہ عمل درامد سوات میں حکومتی عمل داری کی مکمل بحالی کے بعد کیا جائے گا۔

گزشتہ روز سوات کے طالبان نے حکومت کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذ پر آمادگی ظاہر کرنے پر سوات میں دس دن کےلیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کا سوات کے عوام نے انتہائی گرم جوشی سے خیرمقدم کیا تھا اور لوگوں نے بازاروں میں خوشی میں مٹھائیاں تقسم کی تھیں۔

ادھر بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان نے حکومت کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں نظام عدل کے قیام کا کریڈٹ مولانا صوفی محمد کی بجائے مولانا فضل اللہ کو دینا چاہیے کیونکہ ان کے مطابق اس نظام کے لیے اصل قربانیاں تو فضل اللہ کے ساتھیوں نے دی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن کی طرح حکومت قبائلی علاقوں میں بھی شرعی عدالتی نظام قائم کرے تاکہ وہاں بھی انگریزوں کے زمانے کے کالے قوانیں کا خاتمہ ہوسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد