BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2009, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات’نظام عدل‘ پر اتفاق

طالبان (فائل فوٹو)
مولانا صوفی محمد کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ میں ’شریعت‘ کے نفاذ کے بعد وہ سوات کے طالبان سے امن بات چیت کرینگے
کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے صوبائی حکومت سے مذاکرات کے بعد مالاکنڈ ڈویژن میں ’شرعی نظام عدل‘ قیام کےلیے مجوزہ حکومتی مسودے پر دستخط کردیئے ہیں۔

اس کے بعد طالبان نے سوات میں دس روز کی فائربندی کا اعلان کیا ہے جس کی تصدیق طالبان کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان پر حملے کی صورت میں وہ دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

سوات میں جنگ بندی کے اعلان کا سوات کے عوام نے بھی بھر پور انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔

تاہم اس سلسلے میں حتمی مذکرات کل پیر کو پشاور ہونگے میں جس میں توقع ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے صوبائی قائدین بھی شرکت کرینگے۔

مولانا صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ صوبائی حکومت کے ایک وفد نے اتوار کو دیر کے صدر مقام تیمرگرہ میں مولانا صوفی محمد سے بند کمرے میں ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں صوبائی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنماؤں کے مابین مالاکنڈ ڈویژن میں ’شرعی نظام‘ کے نفاذ کے حوالے سے کامیاب بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ٹی این ایس ایم کی جانب سے مسودے پر تحریک کے سربراہ مولانا صوفی محمد، امیر عزت خان اور مولانا محمد عالم نے دستخط کئے۔

ملاقات میں صوبائی حکومت کی نمائندگی صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین، صوبائی وزیر ہدایت اللہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے کی جبکہ اعلیٰ سرکاری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیر کو تحریک کا ایک پانچ رکنی وفد پشاور میں وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی سے ملاقات کرے گا جس میں توقع ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں ’شرعی نظام‘ کے نفاذ سے متعلق باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

مولانا صوفی محمد کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ میں ’شرعی نظام عدل‘ کے نفاذ کے بعد وہ سوات کے طالبان سے امن بات چیت کرینگے۔ اس کے علاوہ سوات کے طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ بھی شروع سے علاقے میں ’شرعی نظام‘ کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ادھر صوبائی حکومت نے کل پشاور میں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک جرگہ طلب کیا ہے جس میں توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعلیٰ سرحد امیرحیدر خان ہوتی مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے قیام کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینگے۔

واضح رہے کہ سرحد حکومت نے کالعدم مذہبی تنظیم تحریکِ نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو گزشتہ سال اگست کے ماہ میں ایک معاہدے کے بعد رہا کر دیا تھا۔ رہائی کے تقریباً ایک ماہ بعد مولانا صوفی محمد نے مالاکنڈ ڈویژن میں ’شرعی‘ نظام کے نفاذ کےلیے دیر کے صدر مقام تیمرگرہ میں ایک پرامن احتجاجی کیمپ قائم کیا جو تاحال برقرار ہے۔

ایمنٹسی کی تشویش
’سوات میں بارہ سو ہلاک اور لاکھوں بےگھر‘
حکومت کا ایک سال
سوات اور باجوڑ کے مہاجرین مایوس
سوات سے ہجرت
گزشتہ چند دنوں میں 30 ہزار افراد بے گھر
اسی بارے میں
شرعی عدالتوں کا نظام بہتر
27 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد