صوفی محمد کے محافظوں پر بم حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی سکیورٹی پر مامور پولیس موبائل پر ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے حکومت کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر لوئر دیر کے علاقے لعل قلعہ میں اس وقت پیش آیا جب مولانا صوفی محمد اپنے گھر سے پولیس کی سکیورٹی میں ایک جلسے میں شرکت کرنے جا رہے تھے۔ دیر پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بشیگرام کے علاقے میں مولانا صوفی محمد کی گاڑی گزرتے ہی وہاں سڑک کے کنارے ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کا نشانہ پیچھے آنے والی پولیس موبائل بنی اور موبائل میں سوار چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ دھماکے سےگاڑی کے کچھ حصے مکمل طورپر تباہ ہوگئے۔ مقامی عسکریت پسندوں کی تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے پولیس اہلکاروں پر بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ ٹانک اور باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی ہاتھوں ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیا گیا ہے۔ تاہم ترجمان نے اس بات کی سختی سے اور بار بار تردید کی اس حملے کا نشانہ مولانا صوفی محمد تھے۔ واضح رہے کہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو سرحد حکومت نے تقریباً دو ماہ پہلے ایک معاہدے کے بعد رہا کیا تھا۔ رہائی کے بعد صوبائی حکومت نے اس کے حفاظت پرکچھ پولیس اہلکاروں کو مقرر کیا ہے جو ہر وقت ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں حکومت، صوفی محمد میں معاہدہ طے21 April, 2008 | پاکستان ’اب بھی فضل اللہ کا ساتھ دیں گے‘07 June, 2008 | پاکستان سرحدمیں چھ طالبان کو رہا کر دیا گیا07 June, 2008 | پاکستان ’طالبان رہا نہ ہوئےتو معاہدہ خطرےمیں‘06 June, 2008 | پاکستان حکومت و طالبان کا امن معاہدہ21 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||