BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2009, 22:34 GMT 03:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کہیں طالبان کی حکمرانی لیکن۔۔۔

عورتیں بھی پردہ نشیں، مرد بھی!
امریکہ میں روز مرہ کی زبان میں چار نئی چيزوں کا اضافہ ہوا ہے: سلم ڈاگ ملینئر، حقہ، رومی اور سوات۔

میرا بیٹا اپنے اسکول کے کتاب میلے سے امریکی دیو مالائي کہانیوں کی کتاب لایا ہے جس میں ایک کہانی اس نے مجھے ڈریگن ’اپالالا‘ کی دکھائي۔ کہانی کے مطابق اپالالا نامی ڈریگن پاکستان کی وادی سوات میں رہا کرتا تھا-

وہ سوات میں بارشیں اور سیلاب کنٹرول کیا کرتا تھا۔ لوگ اسے نذرانے دیا کرتے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ لوگوں نے آپالالا کو نذرانے دینا بند کردیا اور پھر اپالالا نے ناراض ہو کر کئي سال تک سوات کے لوگوں پر سیلابوں اور بارشوں کی بوچھار کر دی۔

ایک دن سوات میں گوتم بدھ آئے اور اپالالا بودھ مت کا ماننے والا بن گیا۔ گوتم بدھ نے اسے سوات کے لوگوں کیلیے مصائب لانا بند کرنے کو کہا۔

آپا لالا اس بات پر راضی ہوا کہ لوگ اسے ہر بارہ سال میں ایک فصل نذرانے کے طور پر دیا کریں۔ اسی لیے ہر بارہ سال بعد دریائے سوات میں طغیانی آتی ہے!

سوات میں اب شدت پسندی کے ڈریگن اور پاکستانی فوج اتری ہوئي ہے جنکی بندوقوں کے بیچ وادی کے لوگ سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔

خوبصورت وادی چھوڑ کر لوگ بھاگے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق انکے جلو زئي کیمپ میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ ہے۔

کچھ ماہ قبل مجھے نیویارک میں عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنما اق‍بال علی خان بتا رہے تھے کہ ان کا تعلق اسی گائوں سے ہے جس میں طالبان رہنما مولانا فضل اللہ رہتے تھے۔ اقبال علی خان کے ملازمین نے اسے پیغام بیھجا تھا کہ ان کی زمینوں پر بھی طالبان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

طالبان کا نظریہ انصاف ذار ہٹ کے ہے

کسی نے اپنے ڈرائیور کی بتائی ہوئی کہانی سنائی جو سوات میں کہیں جارہا تھا کہ راستے میں فوج نے ناکہ لگایا ہوا تھا۔گ اور رلوگوں کو واپس جانے کو کہہ رہی تھی۔ فوجیوں کا کہنا تھا کہ ’آگے مت جاؤ، آگے طالبان کسی کا سر قلم کر رہے ہییں۔‘

اور اب سرکار نےسوات کے مالاکنڈ ڈیویژن میں شرعی نظام عدل قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

دریائے سوات کے دونوں کناروں پر لگے الیکٹرک جھولوں پر سے اب نقاب پوش طالبان اترتے ہیں۔

یہ پردہ نشین تلوار بردار گھوڑ سوار کون ہے، نیویارک سے آنیوالے ایک پختون نے اپنے بھائيوں سے پوچھا؟

’یہ فضل اللہ ہیں، گھوڑے پر سوار اور ہاتھ میں تلوار لیے کہ بقول ان کے پیغمبر اسلام بھی ایسی سواری اور ایسے ہتھیار اٹھایا کرتے تھے۔

جس دن سوات کے ضلعی صدر مقام میں عید کے دن ہزاروں لوگو‍ں کے ہجوم کے سامنے مولانا فضل اللہ نے لوگوں کو سزائيں دینے کیلیے میدان میں عدالت لگائي تھی اس دن یں نیویارک میں سوات سے ہی تعلق رکھنے والے بہادر علی شاہ کے ساتھ پختونوں کی ایک عید ملن پارٹی میں جانے کیلیے سفر کررہا تھا۔

ہاتھوں میں تلوار اٹھائے کون ہیں یہ لوگ؟

بہادر شاہ کا تعلق زمانہ طالب علمی میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تھا اور وہ سوات کالج میں یونین کا انتخاب لڑنے کیلیے افضل خان لالہ کے حکم پر سندھ میں تیل اور گیس کے محکمے میں انجینئیر کی نوکری جھوڑ کر آیا تھا-

ایک وقت تھا جب ان سیکیولر قوم پرست پختون بوڑھوں اور نوجوانوں کا اپنی سرزمین اور لوگوں سے ایک عجیب تعلق اور کمٹمینٹ تھا۔

میں نے اس دن دیکھا کہ ہزاروں لوگ فوجی آپریشن کیخلاف سوات میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان لوگوں میں کتنے ہیں جو طالبان کیخلاف سڑکوں پر نکل آئيں گے؟ کتنے ہیں جو افضل خان لالہ کے ہم آواز شدت پسندی کو ایک بڑی ’نہ‘ کہہ سکیں گے؟

اگر افضل خان لالہ اور رحیم بخش جعفری جیسے پاکستان میں ہزار لوگ بھی ہوتے تو پاکستان میں سوچ ہی نرالی ہوتی۔

بقول یرے ایک دوست کے یہاں عورتیں تو کیا مردوں نے بھی ہجاب پہن رکھے ہیں-

رحیم بخش جعفری کون ہیں؟ رحیم بخش جعفری سندھ میں شکارپور کے قریب ایک گائوں میں رہنے والے بائيں بازو کے رہنما تھے جنہیں شکارپور میں وڈیروں نے سات گولیاں مروائیں۔

رحیم بخش جعفری شکارپور میں وڈیروں، سرداروں اور انکے ڈاکوؤں کے خلاف ایک اکیلی آواز ہے۔ شکارپور جو کبھی وسطی ایشیا میں تجارت کا بڑا مرکز تھا اب سندھ کا وائلڈ ویسٹ ہے جہاں ابھی آپ نے دیکھا اور سنا ہوگا کہ حال ہی میں ایک خاتون ہیلتھ ورکر ماریہ شاہ کے چہرے پر تیزاب پھینکا گیا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔

سیاست دانوں نے ماریہ شاہ کے پاس جاکر فوٹو کھنچوائے، لمبے لمے بیانات دیے لیکن کسی نے بہتر علاج کا انتظام نہ کیا اور وہ مظلوم غریب اکیلی لڑکی کراچي کے برنس سینٹر میں ہی فوت ہوگئي۔

مجھے نہیں معلوم کہ بہت عرصہ پہلے ایک لڑکی پر تیزاب پھینکھنے والے بلال کھر کا بھی پاکستانی قانون کچھ بگاڑ سکا تھا کہ نہیں؟

شکارپور میں ہی لکھی غلام شاہ تھانے پر ایک ملزم کی ناک سی کر اس ميں اونٹ کی طرح نکیل ڈالی گئي۔

آدھے پاکستان پر حکومت طالبان کی اور آدھے پر ’فصلی بٹیروں‘ کی اکثریت کی ہے لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے عورت دشمنی۔

طالبان آئيں تب بھی اسکی بندوقوں کا رخ عورت کی طرف ہے، کوئی سیاسی حکومت آئے تب بھی۔۔۔ کتوں سے نچوا کر قتل کی جانیوالی تسلیم سولنگی سے لیکر بلوچستان کے ڈیرہ مراد میں ماری جانے والی پانچ خواتین تک۔

میں زرینہ مری سمیت ان بلوچ عورتوں کا تو ذکر ہی نہیں کررہا جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ انہیں پاکستان کی ایجنسیاں اٹھا کر لےگئيں اور جو نہ رحمان ملک کی ریکارڈ میں ہیں اور نہ ہی پاکستانی میڈیا کے۔ (بلوچ عسکریت پسندوں نے بھی اقوام متحدہ کے رکن کو اغوا کرکے وہی کیا جس کا الزام پاکستانی ایجنسیوں پر لگایا جاتا ہے)

’تم تو امریکہ چلے گئے لیکن غربت، بھوک، جاگیرداری اور زرداری یہیں چھوڑ گئے‘ میرے ایک دوست نے مجھے پاکستان سے ایس ایم ایس کیا۔

یہ پاکستان کی چار ‍چيزیں ہیں!

حجازی + ابنِ صفی
جہادی اور جاسوسی کاک ٹیل کا ہینگ اوور
بینظیر کا مزاربہادر نہتی لڑکی
’پاؤں ننگے ہیں بینظیروں کے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد