شرعی عدالتی نظام پر معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے تاہم اس پر باقاعدہ عمل درآمد وادی سوات اور ملحقہ اضلاع میں حکومت کی عمل داری بحال ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ یہ اعلان وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے پیر کو پشاور میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کےایک وفد سے باضابط معاہدے کے بعد کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی تھی اور سب نے اس کی متقفہ طور پرمنظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں نوے کے عشرے سے عوام شرعی نظام عدل کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور وہاں ایک خلا پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے لوگ سستے انصاف کے حصول سے محروم تھے۔ انہوں نے کہا کہ دو مرتبہ حکومت کی طرف سے نظام عدل ریگولیشن نافذ کیے گئے تاہم اس پر عمل درآمد کا فقدان رہا جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پھیلی اور ان کے مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا۔ وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کی منظوری سے 1999 کے شرعی ریگولیشن میں ترمیم کی گئی ہے اور اسے اب ’شرعی نظام عدل 2009 ’ کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ جونہی سوات میں امن قائم ہوگا اور حکومت کی عمل داری بحال ہوگی تو شرعی نظام عدل پر پورے مالاکنڈ ڈویژن بشمول کوہستان میں عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے اپیل کی کہ جن لوگوں نے شرعی نظام عدل کےلیے تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا اب انہیں چاہیے کہ وہ امن کی طرف بڑھے اور بندوقیں رکھ دیں۔ اس سے قبل پشاور میں کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے ایک وفد اور صوبائی حکومت کے مابین مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل پر مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جس پر فریقین نے دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق آج یعنی سوموار سے مالاکنڈ ڈویژن بشمول کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے غیر شرعی قوانین یعنی قرآن و سنت و حدیث کے خلاف ہیں وہ کالعدم تصور ہونگے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اسی نظام میں شریعت محمدی جس کی تفصیل اسلامی فقہ کی کتابوں میں موجود ہے نافذ العمل ہونگے اور اس کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا جبکہ اس کی نظریاتی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر دارل دار لقضاء یعنی شرعی عدالت بینچ قائم کردیا جائےگا جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ معاہدے کے مطابق مولانا صوفی محمد سے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کا اطلاق مالاکنڈ ڈویژن بشمول کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ معاہدے پر صوبائی حکومت کی طرف سے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین، صوبائی وزیر حاجی ہدایت اللہ، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید ظاہر شاہ جبکہ ٹی این ایس ایم کی جانب سے مولانا محمد عالم اور امیر عزت خان نے دستخط کئے۔ معاہدے کا متن مندرجہ ذیل ہے۔ ’مولانا صوفی محمد بن الحضرت حسن اور صوبائی حکومت کے کامیاب مذاکرات کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آج سے ملاکنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے بھی غیر شرعی قوانین یعنی قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں وہ موقوف اور کالعدم تصور ہونگے یعنی ختم ہونگے۔
اسی نظام عدالت میں شریعت محمدی جس کی تفصیل اسلامی فقہ کی کتابوں میں موجود ہے اور اس کے مآخذ چار دلائل ہیں کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع، قیاس وجوباً نافذالعمل ہونگے اس کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہو گا۔ اور اس کی نظر ثانی یعنی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر دارالقضاء یعنی شرعی عدالت بنچ قائم کردیا جائے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ حضرت صوفی محمد بن الحضرت حسن کے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کے ہر نقطے پر تفصیلی غور کرنے کے بعد اس کا مکمل اطلاق مالاکنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعد باہمی مشورے سے کیا جائے گا۔ ہماری حضرت صوفی محمد بن الحضرت حسن سے درخواست ہے کہ وہ اپنا پرامن احتجاج ختم کر کے مالاکنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں میں امن قائم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔‘ | اسی بارے میں ’لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘ 13 February, 2009 | پاکستان سوات:مارٹرگولہ گرنے سےہلاکتیں14 February, 2009 | پاکستان سوات:’بارہ سو ہلاک،لاکھوں بےگھر‘13 February, 2009 | پاکستان سوات، باجوڑ کے مہاجرین حکومت سے مایوس14 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||