سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں شرعی نظام عدل کے نفاذ سے متعلق معاہدے پر حکومت پاکستان سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے جمعرات کی شام ٹی وی چینل سی این این کو بتایا کہ ’میں نے اب سے دو گھنٹے قبل ٹیلی فون پر صدر آصف علی زرداری سے بات کی اور اس معاہدے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔‘ رچرڈ ہالبروک پاکستان اور افغانستان میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد امریکہ واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ سوات میں اس معاہدے( کے مقصد) کو سمجھنا مشکل ہے۔‘ ’مجھے اس بات پر تشویش ہے، اور مجھے معلوم ہے کہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو اور صدر باراک اوباما کو بھی، کہ یہ معاہدہ، جسے ذرائع ابلاغ جنگ بندی قرار دے رہے ہیں، کہیں سرینڈر ( ہتھیار ڈالنے) میں نہ بدل جائے۔ تاہم صدر زرداری نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا‘۔ مسٹر ہالبروک کے مطابق صدر زرداری نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عارضی بندوبست ہے اور یہ کہ صدر زرداری اس بات سے اختلاف نہیں کرتے کہ فی الحال جن لوگوں کا سوات پر کنٹرول ہے وہ’ قاتل، ٹھگ اور انتہاپسند ہیں اور ان سے نہ صرف پاکستان کو بلکہ امریکہ کو بھی خطرہ لاحق ہے‘۔ یاد رہے کہ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ان اطلاعات کو سختی سے رد کیا تھا کہ سوات امن معاہدے سے مغربی طاقتیں خوش نہیں ہیں اور ان کا کہنا تھا امن معاہدے کے بارے میں کسی بھی ملک کی جانب سے اعتراض سامنے نہیں آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اس حوالے سے میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کو قیاس آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی تک کسی ملک نے باضابطہ طور پر اس معاہدے کے بارے میں اپنے تحفظات سے دفتر خارجہ کو آگاہ نہیں کیا ہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت نےکالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں جنہیں کئی برس کی قید کے بعدگزشتہ سال رہا کیا گیا تھا۔ تاہم حکومت نے یہ شرط رکھی ہے کہ اس معاہدے پر باقاعدہ عمل درآمد وادی سوات اور ملحقہ اضلاع میں حکومت کی عملداری بحال ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں سوات امن، طالبان کا فیصلہ آج متوقع19 February, 2009 | پاکستان مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘18 February, 2009 | پاکستان شرعی عدالتی نظام پر معاہدہ16 February, 2009 | پاکستان ’اتحادی فنڈز سے ادائیگی کی جائے‘19 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||