سوات امن، طالبان کا فیصلہ آج متوقع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے وفد سے ملاقات کے بعد توقع ہے کہ تحریک طالبان کے رہنما آج اپنا موقف ظاہر کریں گے۔ کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے وفد نے مولانا محمد عالم کی قیادت میں سوات کے علاقے گٹ پیو چار میں طالبان کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں اور تحریک طالبان نے سوچنے کے لیے جمعہ تک کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وفد نے طالبان قیادت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے نظام عدل کا اعلان کیا ہے، لہٰذا آپ لوگ ہتھیار رکھ دیں اور ہمارے ساتھ امن کے عمل میں شریک ہو جائیں۔‘ لیکن نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہےکہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور لگتا کہ کچھ اختلافات آڑے آ رہے ہیں۔ رحیم اللہ کے مطابق طالبان پہلے اس بات کا اطمیان کریں گے صوفی محمد کے ساتھ حکومت نے جو معاہدہ کیا ہے اس کے اطلاق کی کوئی ضمانت ہے یا نہیں اور ساتھ ہی وہ اپنے ساتھیوں کی رہائی اور مقامی لوگوں کو معاوضے کی ادائیگی کے وعدے بھی حاصل کرنا چاہیں گے۔ لیکن فضل اللہ فاروق نےکہا کہ تفصیلی بات چیت کے بعد طالبان قیادت نے جمعہ تک کا وقت مانگا ہے کہ وہ اس پر غور کریں گے اور اس کے بعد فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ طالبان کی طرف سے کس نے مذاکرات میں شرکت کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں طالبان کی اعلیٰ قیادت شامل تھی۔ اس سے قبل فضل اللہ فاروق نے سوات میں ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ ان کا وفد گٹ پیوچار پہنچ چکا ہے جہاں پر مواصلاتی نظام کی عدم موجودگی میں انہیں صورتحال معلوم ہونے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ بدھ کو طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے قائدین پہلے انہیں صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا مسودہ دکھائیں گے اور پھر انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد اس بارے میں بات چیت کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد کی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان چند دن قبل طے پانے والے معاہدے میں ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع اور ہزارہ ڈویژن کے ضلع کوہستان میں نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد سوات میں سرگرم طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔اسی معاہدے کے بعد بدھ کو تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ مینگورہ میں ’امن مارچ‘ بھی کیا تھا۔ |
اسی بارے میں صوفی محمد: سوات جانے کا اعلان16 February, 2009 | پاکستان کہیں طالبان کی حکمرانی لیکن۔۔۔16 February, 2009 | پاکستان ’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘ 18 February, 2009 | پاکستان ’سوات امن عدل کی فراہمی سے آیا‘18 February, 2009 | پاکستان سوات میں صحافی کا اغواء اور قتل18 February, 2009 | پاکستان مینگورہ:صوفی محمد کا ’امن مارچ‘18 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||