BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 February, 2009, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات امن، طالبان کا فیصلہ آج متوقع

اطلاعات کے مطابق مولانا صوفی محمد اور طالبان کے درمیان بات چیت مکمل ہوگئی ہے
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے وفد سے ملاقات کے بعد توقع ہے کہ تحریک طالبان کے رہنما آج اپنا موقف ظاہر کریں گے۔

کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے وفد نے مولانا محمد عالم کی قیادت میں سوات کے علاقے گٹ پیو چار میں طالبان کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔

ان کے مطابق مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں اور تحریک طالبان نے سوچنے کے لیے جمعہ تک کا وقت مانگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وفد نے طالبان قیادت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے نظام عدل کا اعلان کیا ہے، لہٰذا آپ لوگ ہتھیار رکھ دیں اور ہمارے ساتھ امن کے عمل میں شریک ہو جائیں۔‘

لیکن نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہےکہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور لگتا کہ کچھ اختلافات آڑے آ رہے ہیں۔

رحیم اللہ کے مطابق طالبان پہلے اس بات کا اطمیان کریں گے صوفی محمد کے ساتھ حکومت نے جو معاہدہ کیا ہے اس کے اطلاق کی کوئی ضمانت ہے یا نہیں اور ساتھ ہی وہ اپنے ساتھیوں کی رہائی اور مقامی لوگوں کو معاوضے کی ادائیگی کے وعدے بھی حاصل کرنا چاہیں گے۔

لیکن فضل اللہ فاروق نےکہا کہ تفصیلی بات چیت کے بعد طالبان قیادت نے جمعہ تک کا وقت مانگا ہے کہ وہ اس پر غور کریں گے اور اس کے بعد فیصلہ کریں گے۔

بدھ کو ٹی این ایس ایم کے کارکنوں نے مینگورہ میں ’امن مارچ‘ کیا تھا

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ طالبان کی طرف سے کس نے مذاکرات میں شرکت کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں طالبان کی اعلیٰ قیادت شامل تھی۔

اس سے قبل فضل اللہ فاروق نے سوات میں ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ ان کا وفد گٹ پیوچار پہنچ چکا ہے جہاں پر مواصلاتی نظام کی عدم موجودگی میں انہیں صورتحال معلوم ہونے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

بدھ کو طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے قائدین پہلے انہیں صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا مسودہ دکھائیں گے اور پھر انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد اس بارے میں بات چیت کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

صوبہ سرحد کی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان چند دن قبل طے پانے والے معاہدے میں ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع اور ہزارہ ڈویژن کے ضلع کوہستان میں نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے بعد سوات میں سرگرم طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔اسی معاہدے کے بعد بدھ کو تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ مینگورہ میں ’امن مارچ‘ بھی کیا تھا۔

مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
اسی بارے میں
’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘
18 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد