BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 February, 2009, 22:21 GMT 03:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قتل، معاہدے کی خلاف ورزی‘

گزشتہ برس عراق کے بعد پاکستان صحافیوں کےلیے خطرناک ترین جگہ تھی
دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کیلیے کام کرنے والی تنظیم سی پی جے نے موسی خان خیل کے قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوراً گرفتار کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

بدھ کے روز نیویارک میں جاری کردہ ایک بیان میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے ایشیا کے لیے رابطہ کار باب ڈیزئٹ نے کہا ہے کہ’ ہم موسی خان خیل کے قتل پر سوگ میں ہیں اور انکے اہل خانہ کےساتھ تعزیت کرتے ہیں لیکن صرف تعزیت کرنا ہی کافی نہیں۔‘

’حکومت (پاکستان) صحافی موسی خان خیل کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائے اور شوررش زدہ علاقے میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے۔‘

سی پی جے نے موسی خان خیل کے قتل کو سوات میں حکومت اور شدت پسند طالبان ک درمیاں ہونیوالے امن معاہدے کی پہلی خلاف ورزی قرارد دیا ہے۔

سی پپی جے نے کہا ہے کہ پاکستن کے شورش زدہ صوبہ سرحد میں صحافیوں کواپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شدید تشدد کا سامنا ہے۔

سی پی جے نے کہا کہ گزشتہ آٹھ فروروی کو رائیل ٹی وی پشاور کے بیورو چیف نور الحسن کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھا جبکہ گزشتہ برس صحافی عبدالعزیز شاہین کو بھی اغوا کیا گیا تھا اور طالبان کی تحویل میں اسوقت ہلاک ہوگئے جب طالبان کی جیل پر فوج نے حملہ کر دیا۔

مارچ دو ہزار آٹھ میں پاکستان کے انگریزی روزنامے 'نیشن ' کے نمائندے سراج الدین سوات میں خود کش محلے میں ہلاک کیے گۓ تھے۔

اس سے قبل سی پی جے نے دنیا بھر میں صحافیوں پر ہونےوالے تشدد کے متعلق اپنی سال دو ہزار آٹھ کی سالانہ روپورٹ میں پاکستان کو صحافیوں کیلیے سب سے زیادہ پر تشدد ملک بتایا تھا جہاں دنیا میں عراق کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صحافی دوران ڈیوٹی ہلاک کیے گۓ تھے۔

ادھر بدھ کی شام گئے نیویارک میں پاکستانی صحافیوں کی تنظیم کولیشن فار پاکستانی جرنلسٹس نے بھی موسی خان خیل کے قتل پر تعزیت اور احتجاج کیلیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

اسی بارے میں
صحافیوں کو درپیش چیلنج
14 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد