BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2008, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی قتل، عراق کے بعد پاکستان

پاکستان صحافی
2008 میں پاکستان میں سات صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرتے ہوئے جان سےگئے
صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ سال 2008ء میں عراق کے بعد صحافیوں کے قتل کے سب سے زیادہ واقعات پاکستان میں ہوئے ہیں۔

آر ایس ایف یا رپورٹرز سانس فرنٹئرز یعنی سرحد بناء صحافی نامی اس تنظیم نے پیرس سے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال عراق میں جہاں پندرہ صحافی مارے گئے وہاں پاکستان میں بھی سات صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرتے ہوئے جان سےگئے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال دنیا میں صحافیوں کے قتل کے واقعات کم ہوئے ہیں لیکن پھر بھی صورتحال اتنی امید افزاء نہیں ہے۔

تنظیم کے مطابق دنیا کے مختلف ملکوں میں پچھلے سال 86 صحافیوں کے مقابلے میں اس سال 60 صحافیوں کو قتل کیا گیا تاہم زیادہ تر واقعات چند مخصوص ہاٹ زونز میں ہوئے جن میں عراق، پاکستان کے قبائلی علاقے، فلپائن اور میکسیکو شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں صحافی بھی دوسرے عام شہریوں کی طرح جنگ، سیاسی اور مجرمانہ تشدد اور دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے اغواء کے واقعات کے لحاظ سے اس سال افغانستان سرفہرست رہا جہاں سات صحافیوں اور صحافتی معاونین کو اغواء کیا گیا جبکہ صومالیہ اور میکسیکو میں پانچ پانچ اور عراق میں چار صحافی اغواء ہوئے۔

تنظیم کے مطابق اس سال بھی دنیا کے بعض دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں صحافت پر پابندیوں کے انیس واقعات ہوئے تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ واقعات کس عرصے کے دوران رونما ہوئے۔

آر ایس ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال دنیا میں اخبار نویسوں کے ساتھ ساتھ بلاگ لکھنے والے شہریوں کو نشانہ بنانے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس سال پہلی بار کسی شہری کو ویب سائیٹ پر اپنی رائے کے اظہار کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ چین میں پیش آیا۔ اسکے علاوہ دنیا کے کم از کم 37 ملکوں میں آن لائن سنسرشپ یعنی ویب سائیٹس یا ویب پیجز پر پابندیوں کے واقعات ہوئے۔

تنظیم کے مطابق آن لائن سنسرشپ کے سب سے زیادہ واقعات بھی چین میں ہوئے جہاں 93 ویب سائٹس کو بند کیا گیا جبکہ شام کی حکومت نے 162 اور ایران نے 38 ویب سائٹس پر پابندی لگائی۔

رپورٹ کے مطابق ترکی اور تھائی لینڈ سمیت کئی ملکوں میں یو ٹیوب اور ڈیلی موشن جیسی وڈیو شیئرنگ ویب سائٹس حکومتوں کی پابندیوں کا پسندیدہ ہدف رہی ہیں۔ اسکے علاوہ چین، ایران، شام، مصر، مراکش اور برما میں ایسے کئی بلاگرز یعنی انٹرنیٹ پر اپنی رائے اور تجزئے دینے والے عام شہریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تشدد: اپوزیشن کا واک آؤٹ
14 September, 2006 | پاکستان
وقت سے پہلے موت؟
18 August, 2006 | پاکستان
صحافی قتل، حادثہ میں 10 ہلاک
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد