’بیٹا گھر نہ آنا دھماکہ ہوا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بیٹا یہاں دھماکہ ہوا ہے تم اپنے نانا کےگھر میں ہی رہنا، فی الحال گھر نہ آنا۔‘ یہ آخری الفاظ ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافی سلیم طائر اعوان نے خود کش دھماکے میں ہلاک سے چند سیکنڈ اپنے بیٹے سے کہے۔ صوبہ سرحد کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں خود کش حملے میں جہاں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں وہاں دو صحافی بھی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں ان میں ایک سلیم طائر اعوان اور دوسرے محمد عمران تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مرتبہ پھر وہی طریقہ استعمال کیا گیا جس میں ایک چھوٹا دھماکہ کرکے لوگ اور پولیس اہلکارجب اکٹھے ہو جاتے ہیں تو بڑا دھماکہ کر دیا جاتا ہے۔ صحافی اور کالم نگار سلیم طائر اعوان اور محمد عمران بھی اپنی صحافتی کام کے لیے جب موقع پر پہنچے تو دوسرا دھماکہ ہوا جس سے ان دونوں صحافیوں کو گہری چوٹیں آئیں اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ دونوں صحافی بستی ڈیوالہ کے رہائشی تھے اور ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے اور جنازے کے دوران بھی یہی خوف رہا کہ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ میرے ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے دوران سلیم طائر اعوان سے ملاقاتیں ہوتی تھیں لیکن اس مرتبہ وہ زیادہ مصروف تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا حالیہ بارشوں سے ان کے مکان کی دیوار گر گئی تھی جسے مرمت کرانے کے لیے وہ ان دنوں مصروف ہیں۔ کچھ روز بعد ہی انہوں نے مجھے اسلام آباد سے فون کیا اور کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافیوں کو کسی باہر ملک کا دورہ کرایا جائے اور اسی سلسلے میں انہوں نے کچھ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ سلیم طائر اعوان نے پانچ بیٹے بیوہ اور بوڑ ھے والدین کو پیچھے چھوڑا ہے۔وہ اپنے والدین کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ طائر کی نماز جنازہ کے وقت ان کے بزرگ والد زارو قطار روتے رہے اور طائر کے بھائی، دوست اور دیگر رشتہ دار انہیں تسلیاں دیتے رہے لیکن یہ تو ان کے والد کو ہی معلوم تھا کہ طائر سلیم کی صورت میں ان کا ایک بازو کٹ چکا ہے ۔ سلیم طائر کے چچا زاد بھائی شاہد فاروقی نے بتایا ہے کہ سلیم طائر اعوان نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز مقامی روزنامہ مون ٹائم سے شروع کیا پھراخبار ’بلند پرواز‘ میں کام کرتے رہے اور روزنامہ اپنا اخبار میں نشتر کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ وہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے اور ہومیو پیتھک کالج میں پڑھاتے بھی تھے جبکہ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے ڈیرہ اسماعیل خان کے صدر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ محمد عمران ایک نجی ٹیلیوژن کے ساتھ کام کر رہے تھے اور مقامی اخبارات کے ساتھ بھی وابستہ رہے ہیں۔ انھوں نے کچھ ہی عرصہ پہلے صحافت کا آغاز کیا تھا۔ | اسی بارے میں صحافی قتل، عراق کے بعد پاکستان30 December, 2008 | پاکستان خود کش حملے اور صحافی کی اذیت09 February, 2008 | Blog ڈیرہ اسماعیل، صحافی پر حملہ24 November, 2008 | پاکستان صحافی پر ’تشدد‘، تحقیقات کا حکم25 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||