عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | خود کش دھماکوں کی رپورٹر کے مسائل |
جنوبی وزیرستان سے پشاورواپس لوٹنے کے بعد میں سیدھا پریس کلب پہنچ گیا جہاں میں نے اپنےایک قریبی صحافی دوست کو رازدارانہ انداز میں کہا کہ میں حال ہی میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے طالبان کے اہم کمانڈر ملا داداللہ کی ہلاکت سے متعلق ایک اہم خبر ساتھ لایا ہوں۔ ہمارے درمیان کچھ دیر تک معلومات کا تبادلہ ہوا۔ پھر میں نے اپنی ڈائری نکالی اور کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر خبر بنانا شروع کردی۔تھوڑی دیر بعد دو طالبان جنگجو میرے پاس آکر کہنے لگے کہ تم نے ملادداللہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں دینی ہے۔ہمارے درمیان کافی دیر تک تکرار ہوتی رہی مگر آخر میں جھنجلا کر میں نے ڈائری ان کے حوالے کردی اوراٹھ کراپنی گاڑی کے پاس گیا۔ میں نے وہاں سے ایک دوسری ڈائری بھی اٹھائی اور اسکاایک ایک صفحہ پھاڑتے ہوئے ان پر اپناغصہ نکالتا رہا۔دونوں نے اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ رکھے تھے۔میری یہ حالت دیکھ کر تمام صحافی جمع ہوگئے اور حیرت سے یہ تماشہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اس دوران ایک طالب کچھ دور جاکر کھڑے ہوگئے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے خود کو ایک زوردار دھماکے کے ساتھ اڑادیا لیکن خوش قسمتی سے نہ مجھے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کوکسی قسم کا کوئی نقصان پہنچا۔ صرف اتنا ہواکہ خودکش بمبار کا سر لڑھکتے ہوئے میرے قدموں میں آگرا۔ نہیں یہ سچ مچ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ میرے اس صحافی دوست کا دیکھا ہوا ایک خواب ہے جو انہوں نے جاگتے ہی فون کرکے خیریت دریافت کرنے کے وقت حرف بہ حرف سنایا حالانکہ خواب عموماً بے جوڑ واقعات کاا یک مجموعہ ہوتاہے جس میں سے بھی زیادہ تر حصہ دیکھنے والا جاگتے ہی بھول جاتا ہے لیکن میرے دوست کے اس خواب میں ترتیب بھی ہے اور خبریت بھی۔ میں نے اپنے متعلق متفکر ہونے پرانکا شکریہ اداکیا اور کہا کہ یہ محض ایک خواب نہیں ہے بلکہ برسرزمین پیش آنے والے واقعات کی کھوکھ سے جنم لینے والی ان صحافیوں کی ذہنی کیفیت ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں، فضائی بمباری اور فوجی اپریشن کی خبریں دیتے دیتے نہ صرف ذہنی مریض بن چکے ہیں بلکہ بعض دفعہ خود ہی خبر بن جاتے ہیں۔ خواب کے ساتھ کہیں کھو نہ گئی ہوں آنکھیں جب اٹھوں سوکے تو چہرے کو ٹٹولوں پہلے |