مشرف محسود: ایک لو سٹوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کہتے ہیں محسود نے مارا ہے۔محسود فرماتے ہیں ہم نے نہیں مارا، ہم تو جب بھی مارتے ہیں بتا کے مارتے ہیں۔ مشرف کہتے ہیں چل جھوٹا۔ مشرف ہر مغربی صحافی کو بتاتے ہیں میں بینظیر کو کیسے مار سکتا ہوں، میں کوئی قبائلی ہوں؟ جیسے بینظیر بھٹو کا قتل قبائلی دشمنی کا نتیجہ ہو، جیسے بھٹو قبیلے نے چند پُشتیں پہلے محسود قبیلے کی بھینس چرائی ہو۔ محسود کہتے ہیں میں پہلے کبھی قبائلی تھا، اب تو میں انٹرنیشنل وار آن ٹیرر لڑ رہا ہوں۔ اگر مشرف سندھی ہوتے تو اسکے جواب میں کہتے: تو کیا میں یہاں کتے خصی کر رہا ہوں؟ لیکن وہ چونکہ اردو سپیکنگ ہیں اس لیے کہتے ہیں میں کیا جھاڑ پھونک رہا ہوں؟ (اس پٹھان مہاجر جھگڑے میں ایک آدھ سندھی تو مارا ہی جاتا ہے) غیر ملکی صحافیوں کی پریس کانفرنس میں بی بی سی کی لِیز ڈیوسٹ نے پوچھا کہ محسود تو کہتا ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں، اگر ہمت ہے تو آ کے پکڑ لو۔ مشرف نے ہلکا سا شرما کر کہا وہ اپنا ایڈریس تھوڑا ہی بتاتے ہیں؟ کچھ غیر ملکی صحافی ہنسے۔ کچھ ملکی صحافی روئے بھی ہوں گے۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||