صحافی پر ’تشدد‘، تحقیقات کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حکام نے ایک مقامی صحافی بہرام بلوچ پر انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں کی جانب سے مبینہ تشدد کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ پولیس نے اے ٹی ایف پر شہر میں گشت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اردو روزنامہ ’انتخاب‘ کے بیورو چیف کو بدھ کے روز شہر کے ایک چوراہے پر اے ٹی ایف کے اہلکاروں نے روک کر گاڑی سے ساتھی سمیت اتارا اور مبینہ طور پر تشدد کیا۔ واقعے کے بعد ضلعی پولیس افسر اور صوبائی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تین روز میں کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ بہرام بلوچ کے مطابق اس تشدد کی بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی تاہم انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد مقامی تاجروں اور صحافیوں نے احتجاج کرتے ہوئے شہر کی مین سڑک تین گھنٹوں کے لیے بلاک کر دی۔ چند روز قبل ہی وزیر اعلٰی بلوچستان نواب اسلم ریئسانی نے چین کی امداد سے تعمیر کی جانے والی گوادر بندرگارہ کا افتتاح کیا تھا۔ تاہم مقامی بلوچ قوم پرست اس منصوبے کے لیے دیگر علاقوں سے کارکنوں کو لانے پر ناراض ہیں۔ وزیر اعلٰی نے بندرگاہ کا کنٹرول صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس وقت اس کا کنٹرول مرکزی حکومت کے پاس ہے۔ | اسی بارے میں صحافی کےگھر پر حملہ:احتجاج جاری06 December, 2008 | پاکستان میڈیا ملازمین کی برطرفی کے خلاف احتجاج04 December, 2008 | پاکستان ٹی وی ملازم کی ’خود کشی‘ پر احتجاج03 December, 2008 | پاکستان طالبان کی صحافیوں پر پابندی27 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||