BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 December, 2008, 18:24 GMT 23:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹی وی ملازم کی ’خود کشی‘ پر احتجاج

چینل کی انتظامیہ دیگر ملازمین کی تنخواہیں بھی فوری طور پر ادا کرے ورنہ صحافی پرامن نہیں رہیں گے: صحافی تنظیم
پاکستان میں ایک ٹی وی چینل کے ملازم کی خودکشی کے خلاف لاہور سمیت مختلف شہروں میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

لاہور میں خبریں گروپ کے چینل فائیو کے ایک ملازم محمد اعظم نے گذشتہ روز اپنے آپ کو پھانسی لگا کر خودکشی کرلی تھی۔ مرحوم چینل کے آڈیوٹیکنیشن تھے۔ وہ سات بہنوں کے بھائی اور گھر کے واحد کفیل تھے۔ صحافی تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے دیگر کارکنوں کی طرح انہیں بھی چار مہینے سے تنخواہ نہیں ملی تھی اور مالی تنگی ان کی موت کا سبب بنی۔

 محمداعظم نے گھریلو تنازعے کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے اور پیشہ وارانہ رقابت کی وجہ سے دیگر چینل اور میڈیا گروپ اس معاملہ کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔
چینل فائیو انتظامیہ
لاہور پریس کلب سے کارکن صحافیوں نے جلوس نکالا اور خبریں گروپ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے لارنس روڈ پر چینل فائیو کے دفتر کے سامنے پہنچ گئے۔ مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دیا اور ٹریفک بلاک کردی۔ احتجاجی مظاہرہ میں پاکستان یونین آف جرنلسٹس یعنی پی ایف یو جے کے عہدیداروں سمیت میڈیا کی مختلف لیبر تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس یعنی پی یوجے کے صدر شہزاد بٹ نے محمد اعظم کی خود کشی کو ایک طرح کا قتل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ میڈیا گروپ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ چینل کی انتظامیہ دیگر ملازمین کی تنخواہیں بھی فوری طور پر ادا کرے ورنہ صحافی پرامن نہیں رہیں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ محمد اعظم کے اہلخانہ کو دھمکایا جارہا ہے، اس لیے اب پی یو جے خود مدعی بن کر مقدمہ درج کرائے گی۔

چینل فائیو پر بدھ کی شام محمد اعظم کے اہلخانہ کے انٹرویو نشر کیے گئے ہیں جس میں انہوں نے محمد اعظم کی خودکشی کو گھریلو تنازعہ قرار دیا ہے۔ چینل فائیو کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ محمداعظم نے گھریلو تنازعے کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے اور پیشہ وارانہ رقابت کی وجہ سے دیگر چینل اور میڈیا گروپ اس معاملہ کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔

صحافی تنظیموں نے چینل فائیو کی انتظامہ کے اس موقف کو مسترد کیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں چینل فائیو کی انتظامیہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اگر اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کرسکتے تو کم از کم یہ جھوٹی خبریں نشر کرنے سے باز رہیں کہ انہیں کوئی مالی تنگی نہیں تھی۔ٰ

ان دونوں تنظیموں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محمد اعظم خان کی ہلاکت کے واقعہ کی فوری تحقیقات کرے اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے جو ان کی خودکشی کا سبب بنے۔

تنظیموں نے کہا کہ ہے کہ ان کی اپیل پر لاہور، اسلام آباد، کراچی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اعظم خان کی خودکشی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے کہا کہ حکومت مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے کارکنوں کے تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔

پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر شہزاد ظہیر نے پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک ٹی وی چینل کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا یہ احتجاج جاری رہےگا۔

اسی بارے میں
صحافیوں کا ملک گیر احتجاج
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد