میڈیا ملازمین کی برطرفی کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں اور اخباری کارکنان کی تنظیموں نے جمعرات کو پاکستان کے مختلف شہروں میں ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ لگائے۔ اسلام آباد میں پریس کلب کے کیمپ آفس کے باہر صحافیوں اور اخباری کارکنوں نے ٹی وی چینلز اور اخبارات سے ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف احتجاج کیا اور ذرائع ابلاغ کے مالکان کے خلاف نعرے لگائے۔ پاکستان میں صحافیوں کی ایک تنظیم ’پی ایف یو جے‘، کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات نے تین سو کے قریب اپنے ملازمین کو جبری طور پر برطرف کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیو ٹی وی کے انگریزی چینل کا منصوبہ بند ہونے سے ڈیڑھ سو ملازمین بے روزگار ہوں گے۔ ان کے مطابق جیو ٹی وی نے پچاس سے زائد ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔
آج ٹی وی کے ملازم اور پریس کلب کے صدر مشتاق منہاس کے مطابق ان کے ادارے نے چالیس سے زیادہ ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔ ان کے مطابق برطرف کردہ ملازمین میں غیر صحافیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان میں اخبارات کے مدیران کی تنظیم ’سی پی این ای‘، کے سیکریٹری جنرل اور جناح اخبار کے ایڈیٹر خوشنود علی خان نے کہا کہ وہ ملازمین کو تنخواہ دے رہے ہیں تاہم کچھ دنوں کی تاخیر ضرور ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان کی کوشش ہوگی کہ نومبر کی تنخواہیں عید سے پہلے ادا کردی جائیں یا ’کم از کم کچھ رقم ملازمین کو ضرور ملنی چاہیے‘۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے لاہور سے تیس کے قریب غیر صحافتی ملازمین کو فارغ کیا ہے۔ لیکن اسلام آباد کے دفتر سے ان کے بقول کچھ ملازمین خود سے ملازمت چھوڑ گئے ہیں۔ بعض اخباری مالکان کا کہنا ہے عالمی اقتصادی بحران کا اثر پاکستانی میڈیا پر بھی پڑا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی بڑھ جانے اور آمدن کم ہونے کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کی صنعت پر شدید مالی دباؤ ہے۔ لیکن صحافیوں کی تنظیم کے سیکریٹری جنرل اخباری مالکان کا یہ موقف رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اخباری مالکان آئے روز ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو کے چینل کھولتے ہیں لیکن ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے رہے۔ انہوں نے حکومت پر بھی سخت تنقید کی کہ وہ ’لیبر قوانینں پر عمل کرانے میں مکمل طر پر ناکام ہوگئی ہے‘۔ لیکن اس بارے میں جیو ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس کہتے ہیں کہ ٹی وی چینلز نے ایک دوسرے سے مقابلے میں آکر ملازمین کی جو، جوڑ توڑ شروع کی اس دوڑ میں بھاری تنخواہوں پر لوگ رکھ تو لیے لیکن اُسے برقرار نہیں رکھ سکے۔ اظہر عباس کا کہنا ہے کہ میڈیا انڈسٹری کے لیے مالی اعتبار سے آنے والا سال اور بھی برا ثابت ہوگا کیونکہ مارکیٹ میں اتنے چینلز کو چلانے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ٹی وی ملازم کی ’خود کشی‘ پر احتجاج03 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||