BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 00:02 GMT 05:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کی صحافیوں پر پابندی

تحقیقات کر رہے ہیں کہ کون سا صحافی کس طرح کا کام سرانجام دے رہا ہے: طالبان
شمالی وزیرستان میں بغیر اجازت کے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مقامی طالبان کے مطابق میڈیا کی آڑ میں علاقے کی جاسوسی کرنے کی اطلاعات ملنے کے بعد یہ اقدام غیر مقامی صحافیوں کے خلاف اُٹھایا جا رہا ہے۔ مقامی صحافیوں کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ رابطوں کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

طالبان کے مطابق امریکی ، یہودی اور مغربی ممالک کے ساتھ وابستہ یا انکے زیر اثر میڈیا اسلام اور قوم کیلئے نقصان دہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ مثبت رپورٹنگ کے قائل ہیں۔

ان خیالات کا اظہار شمالی وزیرستان میں طالبان کے میر حافظ گل بہادر کے ترجمان احمد اللہ احمدی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں اُن تمام صحافیوں پر پابندی ہے جو امریکی ، یہودی اور مغربی ممالک کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا یا اُن کے زیر اثر اخبارات ، رسائل ، ٹی وی چینلز اور ریڈیو وغیرہ یا اُنکی نیوز ایجنسیوں سے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ مسلمانوں ، اسلام اور ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ آزاد میڈیا اور صحافت کی قدر اور اہمیت کو جانتے ہیں اور اس کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں لیکن صرف ان صحافیوں کو جو محب وطن اور اسلام اور ملک و قوم کے ساتھ وفادار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص صحافت کی آڑ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں یا دیگر غیر اسلامی ممالک کے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہوں انہیں عبرت کا نشان بنائیں گےاور انہیں سرِ عام سزائیں دیں گے۔

انہوں نے پرنٹ اور ایلکٹرونک میڈیا کے مالکان اور سربراہان کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ وہ اپنے ادراوں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں خصوصا غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے والے جاسوس صحافیوں کی چھان بین کر کے اپنے اداروں سے نکال دیں۔

آحمدی اللہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ غیر کے صحافیوں کو کسی بھی صورت میں وزیرستان آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں پہلے سے ہی مقامی صحافی اپنی ذمہ درایاں نبھا رہے ہیں۔ ساتھ میں انہوں نے مقامی صحافیوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی ایجنسی کے ساتھ کام کرنے کا سوچیں بھی نہیں ورنہ وہ بھی سزا کے لیے خود کو تیار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ کون سا صحافی کس طرح کا کام سرانجام دے رہا ہے۔

میران شاہ، رابطہ ختم
میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا
 میران شاہ میں پاک فوجلڑائی کیوں اور کیسے؟
میران شاہ میں جھگڑا کس بات کا ہے؟
میران شاہ میں تباہ شدہ دکانزندگی، تجارت متاثر
میران شاہ میں زندگی اور تجارت دونوں متاثر ہیں
لڑکیکھانےپینےکا مسئلہ
میران شاہ میں اشیائے خورد نوش کی قلت
میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد