صحافیوں کو درپیش چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’آپ کی دنیا بھی خراب ہوگئی ہے اور آپ کی آخرت بھی۔ اب اپنا بندوبست کرلیں آپ۔’ یہ پیغام ٹیلیفون کے ذریعے پشاور کے ایک صحافی کو گزشتہ دنوں قبائلی علاقے میں ایک شدت پسند تنظیم کے رکن سے موصول ہوئی۔ اس کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی اس صحافی کو اس تنظیم کے امیر کے پاس جا کر اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی اور پاؤں پڑنا پڑا جس کے بعد اس کی ’جان بخشی’ ہوئی۔ اس ساری صورتحال کی وجہ اس صحافی کے اخبار کے اداریے میں اس تنظیم کے امیر کی شان میں بقول اس کے ’نازیبہ الفاظ’ کا استعمال تھا۔ یہ واقعہ صحافیوں کی اصل صورتحال کا عکاس ہے۔ اس صحافی نے بتایا کہ انہوں نے خیبر ایجنسی کی اس تنظیم کے اراکین کی دھمکیوں کے خلاف حکومت اور پولیس سے بھی رابطہ کیا تاہم انہوں نے اپنی بےبسی تسلیم کرتے ہوئے اُسے خود ہی اس تنظیم سے صلح صفائی کا قیمتی مشورہ دیا۔ ساوتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک سیمنار میں بدھ کو صحافیوں کو درپیش مسائل پر بات ہوئی اور شرکاء متفق پائے گئے کہ پاکستانی صحافیوں کو ماضی سے زیادہ سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اسلام آباد پریس کلب کے صدر طارق چوہدری نے اس موقع پر واضح کیا کہ بڑے ٹی وی چینل مالکان صحافیوں کو بغیر کسی وجہ کے نکال رہے ہیں جس سے وہ معاشی مشکلات میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایسا نہیں کیا جا رہا وہاں کارکنوں کی تنخواہیں کم کی جا رہی ہیں۔ طارق چوہدری کا کہنا تھا کہ نوکریوں سے نکالنے کی وجہ اکثر مالکان عالمی اقتصادی بحران کو قرار دیتے ہیں تاہم اصل صورتحال ایسی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی بحران کا اثر پاکستان پر نہیں ہوا ہے تو پھر صحافیوں کو نوکریوں سے کیوں نکلا جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ:مقتول صحافی کی تدفین23 May, 2008 | پاکستان ایمرجنسی: میڈیا پر پابندیوں پراحتجاج05 November, 2008 | پاکستان صحافی قتل، عراق کے بعد پاکستان30 December, 2008 | پاکستان ’حیات اللہ کے قاتل بےنقاب کیے جائیں‘17 June, 2008 | پاکستان صحافیوں کی برطرفی پر احتجاج13 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||