ایمرجنسی: میڈیا پر پابندیوں پراحتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونئین آف جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ ملک میں اخبارات اور ٹی چینل کے مالکان اربوں روپے کمانے کے باوجود ورکروں کا استحصال کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق پرائیویٹ ٹی وی چینلز میں پچاسی فیصد لوگ کسی قانونی دستاویزات کے بغیر کام کر رہے ہیں ۔ ُںحافیوں کی تنظیم نے یہ باتیں بدھ کے روز اسلام آباد میں مقامی صحافیوں کے احتجاج کے موقع پر کہیں۔ یہ احتجاج صحافیوں کی تنظیم راولپینڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام تین نومبر دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف اسلام آباد پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاوس تک احتجاجی جلوس نکالا۔ تین نومبر کو اس وقت کے صدر جنرل پرویزمشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں اور تمام نجی نیوز چینلز کی نشرریات کو چند روز تک بند رکھا گیا تھا۔ پارلیمنٹ لاجز کے سامنے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے جانے کے بعد میڈیا کافی حد تک آزاد ہو چکا ہے اور میڈیا کوملنے والی آزادی صحافیوں کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج اخبارات اور ٹی وی مالکان کروڑوں اربوں روپے کا منافع کما رہے ہیں لیکن ان اداروں میں کام کرنے والے ورکروں کو انتہائی معمولی اجرتیں ادا کی جا رہی ہیں جو کہ صحافیوں کا استحصال ہے ۔ مظہر عباس کے مطابق اخبارات کے دفاتر بیگار کیمپ ہیں جہاں آئے دن جب کسی مالک کا دل کرتا ہے وہ صحافی کو کہتا ہے کہ کل سے کام پر نہیں آنا اور اس سے ملتی جلتی صورتحال تمام نجی ٹی وی چینلز کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی صنعت میں میڈیا وہ واحد انڈسٹری ہے جہاں پچاسی فیصد ملازمین بغیر قانونی دستاویزات کے کام کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ فیڈرل یونیئن آف جرنسلٹ کی مرکزی مجلس عاملہ اور آل پاکستان نیوز پیپر کنفڈریشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس سات سے نو نومبر کو ایبٹ آباد میں ہو رہا ہے جس میں مالکان کا صحافیوں کے ساتھ نا مناسب رویہ اور ساتویں ویج ایوارڈ کے نفاذ کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ مظہر عباس نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو دیے جانے والے سرکاری اشتہارات کو ویج ایوارڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے اور جب مالکان اخباری کارکنوں کو تنخواہ ادا نہ کریں تو حکومت اشتہارات کے پیسے مالکان کو دینے کی بجائے اس سے کارکنوں کی تنخواہیں ادا کر دیں۔ صحافی ویج ایوارڈ کے نفاذ کا مطالبہ کئی سالوں سے کر رہے ہیں جبکہ موجودہ حکومت نہ بھی ویج ایوارڈ پر عمل درآمد کا اعلان کیا ہے لیکن اس بارے میں ٹی وی اور اخبار کے مالکان ویج ایوارڈ کے نفاذ پر آمادہ نہیں ہیں ۔ صحافیوں کے اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد یونئین آف جرنلسٹ کے صدر مشتاق مہناس نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کے کچھ ساتھی اب بھی موجودہ حکومت میں کام کر رہے ہیں اور وہ حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ پابندیاں لگائی جائیں ۔ انھوں نے کہا کہ صحافی پہلے بھی پابندیوں کے خلاف مسلسل تین ماہ تک سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے ہیں اور اب بھی کوئی پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں تیس سال پہلے جب صحافیوں کو کوڑے لگے13 May, 2008 | پاکستان میڈیا پر پابندی کی مذمت13 May, 2008 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج13 March, 2008 | پاکستان ’صحافی ناخوش میڈیا مالکان راضی‘13 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||